اختر سوره 1- Al-Fatihah ( The Opening ) 2- Al-Baqarah ( The Cow ) 3- Al-Imran ( The Famiy of Imran ) 4- An-Nisa ( The Women ) 5- Al-Maidah ( The Table spread with Food ) 6- Al-An'am ( The Cattle ) 7- Al-A'raf (The Heights ) 8- Al-Anfal ( The Spoils of War ) 9- At-Taubah ( The Repentance ) 10- Yunus ( Jonah ) 11- Hud 12- Yusuf (Joseph ) 13- Ar-Ra'd ( The Thunder ) 14- Ibrahim ( Abraham ) 15- Al-Hijr ( The Rocky Tract ) 16- An-Nahl ( The Bees ) 17- Al-Isra ( The Night Journey ) 18- Al-Kahf ( The Cave ) 19- Maryam ( Mary ) 20- Taha 21- Al-Anbiya ( The Prophets ) 22- Al-Hajj ( The Pilgrimage ) 23- Al-Mu'minoon ( The Believers ) 24- An-Noor ( The Light ) 25- Al-Furqan (The Criterion ) 26- Ash-Shuara ( The Poets ) 27- An-Naml (The Ants ) 28- Al-Qasas ( The Stories ) 29- Al-Ankaboot ( The Spider ) 30- Ar-Room ( The Romans ) 31- Luqman 32- As-Sajdah ( The Prostration ) 33- Al-Ahzab ( The Combined Forces ) 34- Saba ( Sheba ) 35- Fatir ( The Orignator ) 36- Ya-seen 37- As-Saaffat ( Those Ranges in Ranks ) 38- Sad ( The Letter Sad ) 39- Az-Zumar ( The Groups ) 40- Ghafir ( The Forgiver God ) 41- Fussilat ( Explained in Detail ) 42- Ash-Shura (Consultation ) 43- Az-Zukhruf ( The Gold Adornment ) 44- Ad-Dukhan ( The Smoke ) 45- Al-Jathiya ( Crouching ) 46- Al-Ahqaf ( The Curved Sand-hills ) 47- Muhammad 48- Al-Fath ( The Victory ) 49- Al-Hujurat ( The Dwellings ) 50- Qaf ( The Letter Qaf ) 51- Adh-Dhariyat ( The Wind that Scatter ) 52- At-Tur ( The Mount ) 53- An-Najm ( The Star ) 54- Al-Qamar ( The Moon ) 55- Ar-Rahman ( The Most Graciouse ) 56- Al-Waqi'ah ( The Event ) 57- Al-Hadid ( The Iron ) 58- Al-Mujadilah ( She That Disputeth ) 59- Al-Hashr ( The Gathering ) 60- Al-Mumtahanah ( The Woman to be examined ) 61- As-Saff ( The Row ) 62- Al-Jumu'ah ( Friday ) 63- Al-Munafiqoon ( The Hypocrites ) 64- At-Taghabun ( Mutual Loss & Gain ) 65- At-Talaq ( The Divorce ) 66- At-Tahrim ( The Prohibition ) 67- Al-Mulk ( Dominion ) 68- Al-Qalam ( The Pen ) 69- Al-Haaqqah ( The Inevitable ) 70- Al-Ma'arij (The Ways of Ascent ) 71- Nooh 72- Al-Jinn ( The Jinn ) 73- Al-Muzzammil (The One wrapped in Garments) 74- Al-Muddaththir ( The One Enveloped ) 75- Al-Qiyamah ( The Resurrection ) 76- Al-Insan ( Man ) 77- Al-Mursalat ( Those sent forth ) 78- An-Naba' ( The Great News ) 79- An-Nazi'at ( Those who Pull Out ) 80- Abasa ( He frowned ) 81- At-Takwir ( The Overthrowing ) 82- Al-Infitar ( The Cleaving ) 83- Al-Mutaffifin (Those Who Deal in Fraud) 84- Al-Inshiqaq (The Splitting Asunder) 85- Al-Burooj ( The Big Stars ) 86- At-Tariq ( The Night-Comer ) 87- Al-A'la ( The Most High ) 88- Al-Ghashiya ( The Overwhelming ) 89- Al-Fajr ( The Dawn ) 90- Al-Balad ( The City ) 91- Ash-Shams ( The Sun ) 92- Al-Layl ( The Night ) 93- Ad-Dhuha ( The Forenoon ) 94- As-Sharh ( The Opening Forth) 95- At-Tin ( The Fig ) 96- Al-'alaq ( The Clot ) 97- Al-Qadr ( The Night of Decree ) 98- Al-Bayyinah ( The Clear Evidence ) 99- Az-Zalzalah ( The Earthquake ) 100- Al-'adiyat ( Those That Run ) 101- Al-Qari'ah ( The Striking Hour ) 102- At-Takathur ( The piling Up ) 103- Al-Asr ( The Time ) 104- Al-Humazah ( The Slanderer ) 105- Al-Fil ( The Elephant ) 106- Quraish 107- Al-Ma'un ( Small Kindnesses ) 108- Al-Kauther ( A River in Paradise) 109- Al-Kafiroon ( The Disbelievers ) 110- An-Nasr ( The Help ) 111- Al-Masad ( The Palm Fibre ) 112- Al-Ikhlas ( Sincerity ) 113- Al-Falaq ( The Daybreak ) 114- An-Nas ( Mankind )
الترجمات English English - Yusuf Ali English - Transliteration English - Rowwad Translation Center English - Ahmed Ali English - Ahmed Raza Khan English - Arberry English - Daryabadi English - Hilali & Khan English - Talal Itani English - Maududi English - Mubarakpuri English - Pickthall English - Qarai English - Qaribullah & Darwish English - Sarwar English - Shakir English - Wahiduddin Khan Français Español Spanish Cortes Spanish Garcia Português Deutsch German Bubenheim & Elyas German Khoury German Zaidan Italiano Nederlands Dutch Leemhuis Dutch Siregar Русский Russian Абу Адель Russian Аль-Мунтахаб Russian Крачковский Russian Кулиев Russian Османов Russian Порохова Russian Саблуков Română Greek Svenska Shqip Shqip Feti Mehdiu Shqip Sherif Ahmeti Bosanski Bosnian Mlivo Български České České Nykl Norwegian Türkçe Turkish Alİ Bulaç Turkish Çeviriyazı Turkish Diyanet İşleri Turkish Diyanet Vakfı Turkish Edip Yüksel Turkish Elmalılı Hamdi Yazır Turkish Öztürk Turkish Suat Yıldırım Turkish Süleyman Ateş Polski Croatian Georgian Српски українська Macedonian Lithuanian Azəri Azerbaijani Məmmədəliyev & Bünyadov اردو Urdu Maududi Urdu Ahmed Raza Khan Urdu Jalandhry Urdu Qadri Urdu Jawadi Urdu Junagarhi Urdu Najafi 日本語 한국어 中文 Chinese (Traditional) Hindi Hindi Muhammad Farooq Khan മലയാളം Malayalam Karakunnu & Elayavoor தமிழ் Melayu Indonesian Indonesian Quraish Shihab Indonesian Tafsir Jalalayn বাংলা জহুরুল হক فارسى كوردی Pashto Тоҷикӣ Татарча ไทย ئۇيغۇرچە Ўзбек Uzbek Mikhailo Yakuboych ދިވެހި Sindhi অসমীয়া Bisayan Iranun Maguindanaon Dari Hebrew қазақ тілі Khmer Marathi Hausa soomaali Swahili Afar N'ko Akan Chewa Dagbani Kinyarwanda Lingala Luganda Luhya Malagasy Mõõré Yaw Amazigh Amharic
Your browser does not support the audio element. قَسم ہے روشن ستارے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جب وہ (چشمِ زدن میں شبِ معراج اوپر جا کر) نیچے اترے،
تمہیں (اپنی) صحبت سے نوازنے والے (یعنی تمہیں اپنے فیضِ صحبت سے صحابی بنانے والے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ (کبھی) راہ بھولے اور نہ (کبھی) راہ سے بھٹکے،
اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے،
اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے،
ان کو بڑی قوّتوں و الے (رب) نے (براہِ راست) علمِ (کامل) سے نوازا،
جو حسنِ مُطلَق ہے، پھر اُس (جلوۂ حُسن) نے (اپنے) ظہور کا ارادہ فرمایا،
اور وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ معراج عالمِ مکاں کے) سب سے اونچے کنارے پر تھے (یعنی عالَمِ خلق کی انتہاء پر تھے)،
پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا٭، ٭ یہ معنی امام بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے الجامع الصحیح میں روایت کیا ہے، مزید حضرت عبد اﷲ بن عباس، امام حسن بصری، امام جعفر الصادق، محمد بن کعب القرظی التابعی، ضحّاک رضی اللہ عنہم اور دیگر کئی ائمہِ تفسیر کا قول بھی یہی ہے۔
پھر (جلوۂ حق اور حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہو گیا)،
پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اﷲ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی،
(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا،
کیا تم ان سے اِس پر جھگڑتے ہو کہ جو انہوں نے دیکھا،
اور بیشک انہوں نے تو اُس (جلوۂ حق) کو دوسری مرتبہ (پھر) دیکھا (اور تم ایک بار دیکھنے پر ہی جھگڑ رہے ہو)٭، ٭ یہ معنی ابن عباس، ابوذر غفاری، عکرمہ التابعی، حسن البصری التابعی، محمد بن کعب القرظی التابعی، ابوالعالیہ الریاحی التابعی، عطا بن ابی رباح التابعی، کعب الاحبار التابعی، امام احمد بن حنبل اور امام ابوالحسن اشعری رضی اللہ عنہم اور دیگر ائمہ کے اَقوال پر ہے۔
اسی کے پاس جنت الْمَاْوٰى ہے،
جب نورِ حق کی تجلیّات سِدرَۃ (المنتہٰی) کو (بھی) ڈھانپ رہی تھیں جو کہ (اس پر) سایہ فگن تھیں٭، ٭ یہ معنی بھی امام حسن بصری رضی اللہ عنہ و دیگر ائمہ کے اقوال پر ہے۔
اور اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی)،
بیشک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں،
کیا تم نے لات اور عزٰی (دیویوں) پر غور کیا ہے،
اور اُس تیسری ایک اور (دیوی) منات کو بھی (غور سے دیکھا ہے؟ تم نے انہیں اﷲ کی بیٹیاں بنا رکھا ہے؟)،
(اے مشرکو!) کیا تمہارے لئے بیٹے ہیں اور اس (اﷲ) کے لئے بیٹیاں ہیں،
(اگر تمہارا تصور درست ہے) تب تو یہ تقسیم بڑی ناانصافی ہے،
مگر (حقیقت یہ ہے کہ) وہ (بت) محض نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اﷲ نے ان کی نسبت کوئی دلیل نہیں اتاری، وہ لوگ محض وہم و گمان کی اور نفسانی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں حالانکہ اُن کے پاس اُن کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے،
کیا انسان کے لئے وہ (سب کچھ) میسّر ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے،
پس آخرت اور دنیا کا مالک تو اﷲ ہی ہے،
اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں (کہ کفّار و مشرکین اُن کی عبادت کرتے اور ان سے شفاعت کی امید رکھتے ہیں) جِن کی شفاعت کچھ کام نہیں آئے گی مگر اس کے بعد کہ اﷲ جسے چاہتا ہے اور پسند فرماتا ہے اُس کے لئے اِذن (جاری) فرما دیتا ہے،
بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے نام سے موسوم کر دیتے ہیں،
اور انہیں اِس کا کچھ بھی علم نہیں ہے، وہ صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں، اور بیشک گمان یقین کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا،
سو آپ اپنی توجّہ اس سے ہٹا لیں جو ہماری یاد سے رُوگردانی کرتا ہے اور سوائے دنیوی زندگی کے اور کوئی مقصد نہیں رکھتا،
اُن لوگوں کے علم کی رسائی کی یہی حد ہے، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اُس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جِس نے ہدایت پا لی ہے،
اور اﷲ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ جن لوگوں نے برائیاں کیں انہیں اُن کے اعمال کا بدلہ دے اور جن لوگوں نے نیکیاں کیں انہیں اچھا اجر عطا فرمائے،
جو لوگ چھوٹے گناہوں (اور لغزشوں) کے سوا بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، بیشک آپ کا رب بخشش کی بڑی گنجائش رکھنے والا ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہاری زندگی کی ابتداء اور نشو و نما زمین (یعنی مٹی) سے کی تھی اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں جَنیِن (یعنی حمل) کی صورت میں تھے، پس تم اپنے آپ کو بڑا پاک و صاف مَت جتایا کرو، وہ خوب جانتا ہے کہ (اصل) پرہیزگار کون ہے،
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے (حق سے) منہ پھیر لیا،
اور اس نے (راہِ حق میں) تھوڑا سا (مال) دیا اور (پھر ہاتھ) روک لیا،
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے،
کیا اُسے اُن (باتوں) کی خبر نہیں دی گئی جو موسٰی (علیہ السلام) کے صحیفوں میں (مذکور) تھیں،
اور ابراہیم (علیہ السلام) کے (صحیفوں میں تھیں) جنہوں نے (اﷲ کے ہر امر کو) بتمام و کمال پورا کیا،
کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہوں) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا،
اور یہ کہ انسان کو (عدل میں) وہی کچھ ملے گا جس کی اُس نے کوشش کی ہوگی (رہا فضل اس پر کسی کا حق نہیں وہ محض اﷲ کی عطاء و رضا ہے جس پر جتنا چاہے کر دے)،
اور یہ کہ اُس کی ہر کوشش عنقریب دکھا دی جائے گی (یعنی ظاہر کر دی جائے گی)،
پھر اُسے (اُس کی ہر کوشش کا) پورا پورا بدلہ دیا جائے گا،
اور یہ کہ (بالآخر سب کو) آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہے،
اور یہ کہ وہی (خوشی دے کر) ہنساتا ہے اور (غم دے کر) رُلاتا ہے،
اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جِلاتا ہے،
اور یہ کہ اُسی نے نَر اور مادہ دو قِسموں کو پیدا کیا،
نطفہ (ایک تولیدی قطرہ) سے جبکہ وہ (رَحمِ مادہ میں) ٹپکایا جاتا ہے،
اور یہ کہ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ کرنا (بھی) اسی پر ہے،
اور یہ کہ وہی (بقدرِ ضرورت دے کر) غنی کر دیتا ہے اور وہی (ضرورت سے زائد دے کر) خزانے بھر دیتا ہے،
اور یہ کہ وہی شِعرٰی (ستارے) کا رب ہے (جس کی دورِ جاہلیت میں پوجا کی جاتی تھی)،
اور یہ کہ اسی نے پہلی (قومِ) عاد کو ہلاک کیا،
اور (قومِ) ثمود کو (بھی)، پھر (ان میں سے کسی کو) باقی نہ چھوڑا،
اور اس سے پہلے قومِ نوح کو (بھی ہلاک کیا)، بیشک وہ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے،
اور (قومِ لُوط کی) الٹی ہوئی بستیوں کو (اوپر اٹھا کر) اُسی نے نیچے دے پٹکا،
پس اُن کو ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیا (یعنی پھر اُن پر پتھروں کی بارش کر دی گئی)،
سو (اے انسان!) تو اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں میں شک کرے گا،
یہ (رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں،
آنے والی (قیامت کی گھڑی) قریب آپہنچی،
اﷲ کے سوا اِسے کوئی ظاہر (اور قائم) کرنے والا نہیں ہے،
پس کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو،
اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو،
اور تم (غفلت کی) کھیل میں پڑے ہو،
سو اﷲ کے لئے سجدہ کرو اور (اُس کی) عبادت کرو،