اختر سوره 1- Al-Fatihah ( The Opening ) 2- Al-Baqarah ( The Cow ) 3- Al-Imran ( The Famiy of Imran ) 4- An-Nisa ( The Women ) 5- Al-Maidah ( The Table spread with Food ) 6- Al-An'am ( The Cattle ) 7- Al-A'raf (The Heights ) 8- Al-Anfal ( The Spoils of War ) 9- At-Taubah ( The Repentance ) 10- Yunus ( Jonah ) 11- Hud 12- Yusuf (Joseph ) 13- Ar-Ra'd ( The Thunder ) 14- Ibrahim ( Abraham ) 15- Al-Hijr ( The Rocky Tract ) 16- An-Nahl ( The Bees ) 17- Al-Isra ( The Night Journey ) 18- Al-Kahf ( The Cave ) 19- Maryam ( Mary ) 20- Taha 21- Al-Anbiya ( The Prophets ) 22- Al-Hajj ( The Pilgrimage ) 23- Al-Mu'minoon ( The Believers ) 24- An-Noor ( The Light ) 25- Al-Furqan (The Criterion ) 26- Ash-Shuara ( The Poets ) 27- An-Naml (The Ants ) 28- Al-Qasas ( The Stories ) 29- Al-Ankaboot ( The Spider ) 30- Ar-Room ( The Romans ) 31- Luqman 32- As-Sajdah ( The Prostration ) 33- Al-Ahzab ( The Combined Forces ) 34- Saba ( Sheba ) 35- Fatir ( The Orignator ) 36- Ya-seen 37- As-Saaffat ( Those Ranges in Ranks ) 38- Sad ( The Letter Sad ) 39- Az-Zumar ( The Groups ) 40- Ghafir ( The Forgiver God ) 41- Fussilat ( Explained in Detail ) 42- Ash-Shura (Consultation ) 43- Az-Zukhruf ( The Gold Adornment ) 44- Ad-Dukhan ( The Smoke ) 45- Al-Jathiya ( Crouching ) 46- Al-Ahqaf ( The Curved Sand-hills ) 47- Muhammad 48- Al-Fath ( The Victory ) 49- Al-Hujurat ( The Dwellings ) 50- Qaf ( The Letter Qaf ) 51- Adh-Dhariyat ( The Wind that Scatter ) 52- At-Tur ( The Mount ) 53- An-Najm ( The Star ) 54- Al-Qamar ( The Moon ) 55- Ar-Rahman ( The Most Graciouse ) 56- Al-Waqi'ah ( The Event ) 57- Al-Hadid ( The Iron ) 58- Al-Mujadilah ( She That Disputeth ) 59- Al-Hashr ( The Gathering ) 60- Al-Mumtahanah ( The Woman to be examined ) 61- As-Saff ( The Row ) 62- Al-Jumu'ah ( Friday ) 63- Al-Munafiqoon ( The Hypocrites ) 64- At-Taghabun ( Mutual Loss & Gain ) 65- At-Talaq ( The Divorce ) 66- At-Tahrim ( The Prohibition ) 67- Al-Mulk ( Dominion ) 68- Al-Qalam ( The Pen ) 69- Al-Haaqqah ( The Inevitable ) 70- Al-Ma'arij (The Ways of Ascent ) 71- Nooh 72- Al-Jinn ( The Jinn ) 73- Al-Muzzammil (The One wrapped in Garments) 74- Al-Muddaththir ( The One Enveloped ) 75- Al-Qiyamah ( The Resurrection ) 76- Al-Insan ( Man ) 77- Al-Mursalat ( Those sent forth ) 78- An-Naba' ( The Great News ) 79- An-Nazi'at ( Those who Pull Out ) 80- Abasa ( He frowned ) 81- At-Takwir ( The Overthrowing ) 82- Al-Infitar ( The Cleaving ) 83- Al-Mutaffifin (Those Who Deal in Fraud) 84- Al-Inshiqaq (The Splitting Asunder) 85- Al-Burooj ( The Big Stars ) 86- At-Tariq ( The Night-Comer ) 87- Al-A'la ( The Most High ) 88- Al-Ghashiya ( The Overwhelming ) 89- Al-Fajr ( The Dawn ) 90- Al-Balad ( The City ) 91- Ash-Shams ( The Sun ) 92- Al-Layl ( The Night ) 93- Ad-Dhuha ( The Forenoon ) 94- As-Sharh ( The Opening Forth) 95- At-Tin ( The Fig ) 96- Al-'alaq ( The Clot ) 97- Al-Qadr ( The Night of Decree ) 98- Al-Bayyinah ( The Clear Evidence ) 99- Az-Zalzalah ( The Earthquake ) 100- Al-'adiyat ( Those That Run ) 101- Al-Qari'ah ( The Striking Hour ) 102- At-Takathur ( The piling Up ) 103- Al-Asr ( The Time ) 104- Al-Humazah ( The Slanderer ) 105- Al-Fil ( The Elephant ) 106- Quraish 107- Al-Ma'un ( Small Kindnesses ) 108- Al-Kauther ( A River in Paradise) 109- Al-Kafiroon ( The Disbelievers ) 110- An-Nasr ( The Help ) 111- Al-Masad ( The Palm Fibre ) 112- Al-Ikhlas ( Sincerity ) 113- Al-Falaq ( The Daybreak ) 114- An-Nas ( Mankind )
الترجمات English English - Yusuf Ali English - Transliteration English - Rowwad Translation Center English - Ahmed Ali English - Ahmed Raza Khan English - Arberry English - Daryabadi English - Hilali & Khan English - Talal Itani English - Maududi English - Mubarakpuri English - Pickthall English - Qarai English - Qaribullah & Darwish English - Sarwar English - Shakir English - Wahiduddin Khan Français Español Spanish Cortes Spanish Garcia Português Deutsch German Bubenheim & Elyas German Khoury German Zaidan Italiano Nederlands Dutch Leemhuis Dutch Siregar Русский Russian Абу Адель Russian Аль-Мунтахаб Russian Крачковский Russian Кулиев Russian Османов Russian Порохова Russian Саблуков Română Greek Svenska Shqip Shqip Feti Mehdiu Shqip Sherif Ahmeti Bosanski Bosnian Mlivo Български České České Nykl Norwegian Türkçe Turkish Alİ Bulaç Turkish Çeviriyazı Turkish Diyanet İşleri Turkish Diyanet Vakfı Turkish Edip Yüksel Turkish Elmalılı Hamdi Yazır Turkish Öztürk Turkish Suat Yıldırım Turkish Süleyman Ateş Polski Croatian Georgian Српски українська Macedonian Lithuanian Azəri Azerbaijani Məmmədəliyev & Bünyadov اردو Urdu Maududi Urdu Ahmed Raza Khan Urdu Jalandhry Urdu Qadri Urdu Jawadi Urdu Junagarhi Urdu Najafi 日本語 한국어 中文 Chinese (Traditional) Hindi Hindi Muhammad Farooq Khan മലയാളം Malayalam Karakunnu & Elayavoor தமிழ் Melayu Indonesian Indonesian Quraish Shihab Indonesian Tafsir Jalalayn বাংলা জহুরুল হক فارسى كوردی Pashto Тоҷикӣ Татарча ไทย ئۇيغۇرچە Ўзбек Uzbek Mikhailo Yakuboych ދިވެހި Sindhi অসমীয়া Bisayan Iranun Maguindanaon Dari Hebrew қазақ тілі Khmer Marathi Hausa soomaali Swahili Afar N'ko Akan Chewa Dagbani Kinyarwanda Lingala Luganda Luhya Malagasy Mõõré Yaw Amazigh Amharic
Your browser does not support the audio element. ص (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، ذکر والے قرآن کی قسم،
بلکہ کافر لوگ (ناحق) حمیّت و تکبّر میں اور (ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) مخالفت و عداوت میں (مبتلا) ہیں،
ہم نے کتنی ہی امّتوں کو اُن سے پہلے ہلاک کر دیا تو وہ (عذاب کو دیکھ کر) پکارنے لگے حالانکہ اب خلاصی (اور رہائی) کا وقت نہیں رہا تھا،
اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس اُن ہی میں سے ایک ڈر سنانے والا آگیا ہے۔ اور کفّار کہنے لگے: یہ جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہے،
کیا اس نے سب معبودوں کو ایک ہی معبود بنا رکھا ہے؟ بے شک یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے،
اور اُن کے سردار (ابوطالب کے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر) چل کھڑے ہوئے (باقی لوگوں سے) یہ کہتے ہوئے کہ تم بھی چل پڑو، اور اپنے معبودوں (کی پرستش) پر ثابت قدم رہو، یہ ضرور ایسی بات ہے جس میں کوئی غرض (اور مراد) ہے،
ہم نے اس (عقیدۂ توحید) کو آخری ملّتِ (نصرانی یا مذہبِ قریش) میں بھی نہیں سنا، یہ صرف خود ساختہ جھوٹ ہے،
کیا ہم سب میں سے اسی پر یہ ذکر (یعنی قرآن) اتارا گیا ہے؟ بلکہ وہ میرے ذکر کی نسبت شک میں (گرفتار) ہیں، بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا،
کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب ہے بہت عطا فرمانے والا ہے؟،
یا اُن کے پاس آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ اِن دونوں کے درمیان ہے اس کی بادشاہت ہے؟ (اگر ہے) تو انہیں چاہئے کہ رسّیاں باندھ کر (آسمان پر) چڑھ جائیں،
(کفّار کے) لشکروں میں سے یہ ایک حقیر سا لشکر ہے جو اسی جگہ شکست خوردہ ہونے والا ہے،
اِن سے پہلے قومِ نوح نے اور عاد نے اور بڑی مضبوط حکومت والے (یا میخوں سے اذیّت دینے والے) فرعون نے (بھی) جھٹلایا تھا،
اور ثمود نے اور قومِ لوط نے اور اَیکہ (بَن) کے رہنے والوں نے (یعنی قومِ شعیب نے) بھی (جھٹلایا تھا)، یہی وہ بڑے لشکر تھے،
(اِن میں سے) ہر ایک گروہ نے رسولوں کو جھٹلایا تو (اُن پر) میرا عذاب واجب ہو گیا،
اور یہ سب لوگ ایک نہایت سخت آواز (چنگھاڑ) کا انتظار کر رہے ہیں جس میں کچھ بھی توقّف نہ ہوگا،
اور وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! روزِ حساب سے پہلے ہی ہمارا حصّہ ہمیں جلد دے دے،
(اے حبیبِ مکرّم!) جو کچھ وہ کہتے ہیں آپ اس پر صبر جاری رکھیئے اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کریں جو بڑی قوت والے تھے، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے،
بے شک ہم نے پہاڑوں کو اُن کے زیرِ فرمان کر دیا تھا، جو (اُن کے ساتھ مل کر) شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرتے تھے،
اور پرندوں کو بھی جو (اُن کے پاس) جمع رہتے تھے، ہر ایک ان کی طرف (اطاعت کے لئے) رجوع کرنے والا تھا،
اور ہم نے اُن کے ملک و سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور ہم نے انہیں حکمت و دانائی اور فیصلہ کن اندازِ خطاب عطا کیا تھا،
اور کیا آپ کے پاس جھگڑنے والوں کی خبر پہنچی؟ جب وہ دیوار پھاند کر (داؤد علیہ السلام کی) عبادت گاہ میں داخل ہو گئے،
جب وہ داؤد (علیہ السلام) کے پاس اندر آگئے تو وہ اُن سے گھبرائے، انہوں نے کہا: گھبرائیے نہیں، ہم (ایک) مقدّمہ میں دو فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیں اور حد سے تجاوز نہ کریں اور ہمیں سیدھی راہ کی طرف رہبری کر دیں،
بے شک یہ میرا بھائی ہے، اِس کی ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دُنبی ہے، پھر کہتا ہے یہ (بھی) میرے حوالہ کر دو اور گفتگو میں (بھی) مجھے دبا لیتا ہے،
داؤد (علیہ السلام) نے کہا: تمہاری دُنبی کو اپنی دُنبیوں سے ملانے کا سوال کر کے اس نے تم سے زیادتی کی ہے اور بیشک اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ ہم نے (اس مقدّمہ کے ذریعہ) اُن کی آزمائش کی ہے، سو انہوں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور سجدہ میں گر پڑے اور توبہ کی،
تو ہم نے اُن کو معاف فرما دیا، اور بے شک اُن کے لئے ہماری بارگاہ میں قربِ خاص ہے اور (آخرت میں) اَعلیٰ مقام ہے،
اے داؤد! بے شک ہم نے آپ کو زمین میں (اپنا) نائب بنایا سو تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے (یا حکومت) کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ورنہ (یہ پیروی) تمہیں راہِ خدا سے بھٹکا دے گی، بے شک جو لوگ اﷲ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں اُن کے لئے سخت عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ یومِ حساب کو بھول گئے،
اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کائنات دونوں کے درمیان ہے اسے بے مقصد و بے مصلحت نہیں بنایا۔ یہ (بے مقصد یعنی اتفاقیہ تخلیق) کافر لوگوں کا خیال و نظریہ ہے۔ سو کافر لوگوں کے لئے آتشِ دوزخ کی ہلاکت ہے،
کیا ہم اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور اعمالِ صالحہ بجا لائے اُن لوگوں جیسا کر دیں گے جو زمین میں فساد بپا کرنے والے ہیں یا ہم پرہیزگاروں کو بدکرداروں جیسا بنا دیں گے،
یہ کتاب برکت والی ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے تاکہ دانش مند لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں،
اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو (فرزند) سلیمان (علیہ السلام) بخشا، وہ کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ بڑی کثرت سے توبہ کرنے والا ہے،
جب اُن کے سامنے شام کے وقت نہایت سُبک رفتار عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے،
تو انہوں نے (اِنابۃً) کہا: میں مال (یعنی گھوڑوں) کی محبت کو اپنے رب کے ذکر سے بھی (زیادہ) پسند کر بیٹھا ہوں یہاں تک کہ (سورج رات کے) پردے میں چھپ گیا،
انہوں نے کہا: اُن (گھوڑوں) کو میرے پاس واپس لاؤ، تو انہوں نے (تلوار سے) اُن کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹ ڈالیں (یوں اپنی محبت کو اﷲ کے تقرّب کے لئے ذبح کر دیا)،
اور بے شک ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی (بھی) آزمائش کی اور ہم نے اُن کے تخت پر ایک (عجیب الخلقت) جسم ڈال دیا پھر انہوں نے دوبارہ (سلطنت) پا لی،
عرض کیا: اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو میسّر نہ ہو، بیشک تو ہی بڑا عطا فرمانے والا ہے،
پھر ہم نے اُن کے لئے ہوا کو تابع کر دیا، وہ اُن کے حکم سے نرم نرم چلتی تھی جہاں کہیں (بھی) وہ پہنچنا چاہتے،
اور کل جنّات (و شیاطین بھی ان کے تابع کر دیئے) اور ہر معمار اور غوطہ زَن (بھی)،
اور دوسرے (جنّات) بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے،
(ارشاد ہوا:) یہ ہماری عطا ہے (خواہ دوسروں پر) احسان کرو یا (اپنے تک) روکے رکھو (دونوں حالتوں میں) کوئی حساب نہیں،
اور بے شک اُن کے لئے ہماری بارگاہ میں خصوصی قربت اور آخرت میں عمدہ مقام ہے،
اور ہمارے بندے ایّوب (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے بڑی اذیّت اور تکلیف پہنچائی ہے،
(ارشاد ہوا:) تم اپنا پاؤں زمین پر مارو، یہ (پانی کا) ٹھنڈا چشمہ ہے نہانے کے لئے اور پینے کے لئے،
اور ہم نے اُن کو اُن کے اہل و عیال اور اُن کے ساتھ اُن کے برابر (مزید اہل و عیال) عطا کر دیئے، ہماری طرف سے خصوصی رحمت کے طور پر، اور دانش مندوں کے لئے نصیحت کے طور پر،
(اے ایوب!) تم اپنے ہاتھ میں (سَو) تنکوں کی جھاڑو پکڑ لو اور (اپنی قسم پوری کرنے کے لئے) اس سے (ایک بار اپنی زوجہ کو) مارو اور قسم نہ توڑو، بے شک ہم نے اسے ثابت قدم پایا، (ایّوب علیہ السلام) کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا،
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیھم السلام) کا ذکر کیجئے جو بڑی قوّت والے اور نظر والے تھے،
بے شک ہم نے اُن کو آخرت کے گھر کی یاد کی خاص (خصلت) کی وجہ سے چن لیا تھا،
اور بے شک وہ ہمارے حضور بڑے منتخب و برگزیدہ (اور) پسندیدہ بندوں میں سے تھے،
اور آپ اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل (علیھم السلام) کا (بھی) ذکر کیجئے، اور وہ سارے کے سارے چنے ہوئے لوگوں میں سے تھے،
یہ (وہ) ذکر ہے (جس کا بیان اس سورت کی پہلی آیت میں ہے)، اور بے شک پرہیزگاروں کے لئے عمدہ ٹھکانا ہے،
(جو) دائمی اِقامت کے لئے باغاتِ عدن ہیں جن کے دروازے اُن کے لئے کھلے ہوں گے،
وہ اس میں (مَسندوں پر) تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اس میں (وقفے وقفے سے) بہت سے عمدہ پھل اور میوے اور (لذیذ) شربت طلب کرتے رہیں گے،
اور اُن کے پاس نیچی نگاہوں والی (باحیا) ہم عمر (حوریں) ہوں گی،
یہ وہ نعمتیں ہیں جن کا روزِ حساب کے لئے تم سے وعدہ کیا جاتا ہے،
بیشک یہ ہماری بخشش ہے اسے کبھی بھی ختم نہیں ہونا،
یہ (تو مومنوں کے لئے ہے)، اور بے شک سرکشوں کے لئے بہت ہی برا ٹھکانا ہے،
(وہ) دوزخ ہے، اس میں وہ داخل ہوں گے، سو بہت ہی بُرا بچھونا ہے،
یہ (عذاب ہے) پس انہیں یہ چکھنا چاہئے کھولتا ہوا پانی ہے اور پیپ ہے،
اور اسی شکل میں اور بھی طرح طرح کا (عذاب) ہے،
(دوزخ کے داروغے یا پہلے سے موجود جہنمی کہیں گے:) یہ ایک (اور) فوج ہے جو تمہارے ساتھ (جہنم میں) گھستی چلی آرہی ہے، انہیں کوئی خوش آمدید نہیں، بیشک وہ (بھی) دوزخ میں داخل ہونے والے ہیں،
وہ (آنے والے) کہیں گے: بلکہ تم ہی ہو کہ تمہیں کوئی فراخی نصیب نہ ہو، تم ہی نے یہ (کفر اور عذاب) ہمارے سامنے پیش کیا، سو (یہ) بری قرارگاہ ہے،
وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جس نے یہ (کفر یا عذاب) ہمارے لئے پیش کیا تھا تو اسے دوزخ میں دوگنا عذاب بڑھا دے،
اور وہ کہیں گے: ہمیں کیا ہوگیا ہے ہم (اُن) اشخاص کو (یہاں) نہیں دیکھتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے،
کیا ہم ان کا (ناحق) مذاق اڑاتے تھے یا ہماری آنکھیں انہیں (پہچاننے) سے چوک گئی تھیں (یہ عمّار، خباب، صُہیب، بلال اور سلمان رضی اللہ عنھما جیسے فقراء اور درویش تھے)،
بے شک یہ اہلِ جہنم کا آپس میں جھگڑنا یقیناً حق ہے،
فرما دیجئے: میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں، اور اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا سب پر غالب ہے،
آسمانوں اور زمین کا اور جو کائنات اِن دونوں کے درمیان ہے (سب) کا رب ہے بڑی عزت والا، بڑا بخشنے والا ہے،
فرما دیجئے: وہ (قیامت) بہت بڑی خبر ہے،
تم اس سے منہ پھیرے ہوئے ہو،
مجھے تو (اَزخود) عالمِ بالا کی جماعتِ (ملائکہ) کی کوئی خبر نہ تھی جب وہ (تخلیقِ آدم کے بارے میں) بحث و تمحیص کر رہے تھے،
مجھے تو (اﷲ کی طرف سے) وحی کی جاتی ہے مگر یہ کہ میں صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں،
(وہ وقت یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں (گیلی) مٹی سے ایک پیکرِ بشریت پیدا فرمانے والا ہوں،
پھر جب میں اس (کے ظاہر) کو درست کر لوں اور اس (کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس (کی تعظیم) کے لئے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا،
پس سب کے سب فرشتوں نے اکٹھے سجدہ کیا،
سوائے ابلیس کے، اس نے (شانِ نبوّت کے سامنے) تکبّر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا،
(اﷲ نے) ارشاد فرمایا: اے ابلیس! تجھے کس نے اس (ہستی) کو سجدہ کرنے سے روکا ہے جسے میں نے خود اپنے دستِ (کرم) سے بنایا ہے، کیا تو نے (اس سے) تکبّر کیا یا تو (بزعمِ خویش) بلند رتبہ (بنا ہوا) تھا،
اس نے (نبی کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے ہوئے) کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور تو نے اِسے مٹی سے بنایا ہے،
ارشاد ہوا: سو تو (اِس گستاخئ نبوّت کے جرم میں) یہاں سے نکل جا، بے شک تو مردود ہے،
اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت رہے گی،
اس نے کہا: اے پروردگار! پھر مجھے اس دن تک (زندہ رہنے کی) مہلت دے جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے،
ارشاد ہوا: (جا) بے شک تو مہلت والوں میں سے ہے،
اس وقت کے دن تک جو مقرّر (اور معلوم) ہے،
اس نے کہا: سو تیری عزّت کی قسم! میں ان سب لوگوں کو ضرور گمراہ کرتا رہوں گا،
سوائے تیرے اُن بندوں کے جو چُنیدہ و برگزیدہ ہیں،
ارشاد ہوا: پس حق (یہ) ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں،
کہ میں تجھ سے اور جو لوگ تیری (گستاخانہ سوچ کی) پیروی کریں گے اُن سب سے دوزخ کو بھر دوں گا،
فرما دیجئے: میں تم سے اِس (حق کی تبلیغ) پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں،
یہ (قرآن) تو سارے جہان والوں کے لئے نصیحت ہی ہے،
اور تمہیں تھوڑے ہی وقت کے بعد خود اِس کا حال معلوم ہو جائے گا،