ان کے دل غافل ہو چکے ہیں، اور (یہ) ظالم لوگ (آپ کے خلاف) آہستہ آہستہ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ تو محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، کیا پھر (بھی) تم (اس کے) جادو کے پاس جاتے ہو حالانکہ تم دیکھ رہے ہو،
بلکہ (ظالموں نے یہاں تک) کہا کہ یہ (قرآن) پریشان خوابوں (میں دیکھی ہوئی باتیں) ہیں بلکہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے (خود ہی) گھڑ لیا ہے بلکہ (یہ کہ) وہ شاعر ہے، (اگر یہ سچا ہے) تو یہ (بھی) ہمارے پاس کوئی نشانی لے آئے جیسا کہ اگلے (رسول نشانیوں کے ساتھ) بھیجے گئے تھے،
اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ سے پہلے (بھی) مَردوں کو ہی (رسول بنا کر) بھیجا تھا ہم ان کی طرف وحی بھیجا کرتے تھے (لوگو!) تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تم (خود) نہ جانتے ہو،
(ان سے کہا گیا:) تم جلدی مت بھاگو اور اسی جگہ واپس لوٹ جاؤ جس میں تمہیں آسائشیں دی گئی تھیں اور اپنی (پرتعیش) رہائش گاہوں کی طرف (پلٹ جاؤ) شاید تم سے باز پرس کی جائے،
بلکہ ہم حق سے باطل پر پوری قوت کے ساتھ چوٹ لگاتے ہیں سو حق اسے کچل دیتا ہے پس وہ (باطل) ہلاک ہو جاتا ہے، اور تمہارے لئے ان باتوں کے باعث تباہی ہے جو تم بیان کرتے ہو،
اور جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا (بندہ و مملوک) ہے، اور جو (فرشتے) اس کی قربت میں (رہتے) ہیں وہ نہ تو اس کی عبادت سے تکبّر کرتے ہیں اور نہ وہ (اس کی طاعت بجا لاتے ہوئے) تھکتے ہیں،
اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اﷲ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے، پس اﷲ جو عرش کا مالک ہے ان (باتوں) سے پاک ہے جو یہ (مشرک) بیان کرتے ہیں،
کیا ان (کافروں) نے اسے چھوڑ کر اور معبود بنا لئے ہیں؟ فرما دیجئے: اپنی دلیل لاؤ، یہ (قرآن) ان لوگوں کا ذکر ہے جو میرے ساتھ ہیں اور ان کا (بھی) ذکر ہے جو مجھ سے پہلے تھے بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے اِس لئے وہ اِس سے رُوگردانی کئے ہوئے ہیں،
یہ لوگ کہتے ہیں کہ (خدائے) رحمان نے (فرشتوں کو اپنی) اولاد بنا رکھا ہے وہ پاک ہے، بلکہ (جن فرشتوں کو یہ اُس کی اولاد سمجھتے ہیں) وہ (اﷲ کے) معزز بندے ہیں،
وہ (اﷲ) ان چیزوں کو جانتا ہے جو ان کے سامنے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں اور وہ (اس کے حضور) سفارش بھی نہیں کرتے مگر اس کے لئے (کرتے ہیں) جس سے وہ خوش ہوگیا ہو اور وہ اس کی ہیبت و جلال سے خائف رہتے ہیں،
اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا، اور ہم نے (زمین پر) پیکرِ حیات (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (قرآن کے بیان کردہ اِن حقائق سے آگاہ ہو کر بھی) ایمان نہیں لاتے،
اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ بنا دیئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ (اپنے مدار میں حرکت کرتے ہوئے) انہیں لے کر کانپنے لگے اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ (مختلف منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پاسکیں،
اور ہم نے سماء (یعنی زمین کے بالائی کرّوں) کو محفوظ چھت بنایا (تاکہ اہلِ زمین کو خلا سے آنے والی مہلک قوتوں اور جارحانہ لہروں کے مضر اثرات سے بچائیں) اور وہ اِن (سماوی طبقات کی) نشانیوں سے رُوگرداں ہیں،
اور ہم نے آپ سے پہلے کسی اِنسان کو (دنیا کی ظاہری زندگی میں) بقائے دوام نہیں بخشی، تو کیا اگر آپ (یہاں سے) اِنتقال فرما جائیں تو یہ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیں؟،
اور جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے محض تمسخر ہی کرنے لگتے ہیں (اور کہتے ہیں:) کیا یہی ہے وہ شخص جو تمہارے معبودوں کا (ردّ و انکار کے ساتھ) ذکر کرتا ہے؟ اور وہ خود (خدائے) رحمان کے ذکر سے انکاری ہیں،
اگر کافر لوگ وہ وقت جان لیتے جبکہ وہ (دوزخ کی) آگ کو نہ اپنے چہروں سے روک سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی (تو پھر عذاب طلب کرنے میں جلدی کا شور نہ کرتے)،
کیا ہمارے سوا ان کے کچھ اور معبود ہیں جو انہیں (عذاب سے) بچا سکیں، وہ تو خود اپنی ہی مدد پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہماری طرف سے انہیں کوئی تائید و رفاقت میسّر ہوگی،
بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو (فراخئ عیش سے) بہرہ مند فرمایا تھا یہاں تک کہ ان کی عمریں بھی دراز ہوتی گئیں، تو کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم (اب اسلامی فتوحات کے ذریعہ ان کے زیرِ تسلّط) علاقوں کو تمام اَطراف سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں، تو کیا وہ (اب) غلبہ پانے والے ہیں،
اور ہم قیامت کے دن عدل و انصاف کے ترازو رکھ دیں گے سو کسی جان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے گا، اور اگر (کسی کا عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا (تو) ہم اسے (بھی) حاضر کر دیں گے، اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں،
اور بیشک ہم نے موسٰی اور ہارون (علیہما السلام) کو (حق و باطل میں) فرق کرنے والی اور (سراپا) روشنی اور پرہیز گاروں کے لئے نصیحت (پر مبنی کتاب تورات) عطا فرمائی،
اور بیشک ہم نے پہلے سے ہی ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے (مرتبہ کے مطابق) فہم و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم ان (کی استعداد و اہلیت) کو خوب جاننے والے تھے،
(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان (سب) کو پیدا فرمایا اور میں اس (بات) پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں،
پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے کر دیئے گئے (یعنی ان کی عقلیں اوندھی ہوگئیں اور کہنے لگے:) بیشک (اے ابراہیم!) تم خود ہی جانتے ہو کہ یہ تو بولتے نہیں ہیں،
اور ہم ابراہیم (علیہ السلام) کو اور لوط (علیہ السلام) کو (جو آپ کے بھتیجے یعنی آپ کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے) بچا کر (عراق سے) اس سرزمینِ (شام) کی طرف لے گئے جس میں ہم نے جہان والوں کے لئے برکتیں رکھی ہیں،
اور ہم نے انہیں (انسانیت کا) پیشوا بنایا وہ (لوگوں کو) ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف اَعمالِ خیر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے (کے احکام) کی وحی بھیجی، اور وہ سب ہمارے عبادت گزار تھے،
اور لوط (علیہ السلام) کو (بھی) ہم نے حکمت اور علم سے نوازا تھا اور ہم نے انہیں اس بستی سے نجات دی جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے۔ بیشک وہ بہت ہی بری (اور) بد کردار قوم تھی،
اور نوح (علیہ السلام کو بھی یاد کریں) جب انہوں نے ان (انبیاء علیہم السلام) سے پہلے (ہمیں) پکارا تھا سو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑے شدید غم و اندوہ سے نجات بخشی،
اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام کا قصہ بھی یاد کریں) جب وہ دونوں کھیتی (کے ایک مقدمہ) میں فیصلہ کرنے لگے جب ایک قوم کی بکریاں اس میں رات کے وقت بغیر چرواہے کے گھس گئی تھیں (اور اس کھیتی کو تباہ کر دیا تھا)، اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ فرما رہے تھے،
چنانچہ ہم ہی نے سلیمان (علیہ السلام) کو وہ (فیصلہ کرنے کا طریقہ) سکھایا تھا اور ہم نے ان سب کو حکمت اور علم سے نوازا تھا اور ہم نے پہاڑوں اور پرندوں (تک) کو داؤد (علیہ السلام) کے (حکم کے) ساتھ پابند کر دیا تھا وہ (سب ان کے ساتھ مل کر) تسبیح پڑھتے تھے، اور ہم ہی (یہ سب کچھ) کرنے والے تھے،
اور (ہم نے) سلیمان (علیہ السلام) کے لئے تیز ہوا کو (مسخّر کردیا) جو ان کے حکم سے (جملہ اَطراف و اَکناف سے) اس سرزمینِ (شام) کی طرف چلا کرتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں، اور ہم ہر چیز کو (خوب) جاننے والے ہیں،
اور کچھ شیطان (دیووں اور جنّوں) کو بھی (سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا) جو ان کے لئے (دریا میں) غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا (ان کے حکم پر) دیگر خدمات بھی انجام دیتے تھے، اور ہم ہی ان (دیووں) کے نگہبان تھے،
تو ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور انہیں جو تکلیف (پہنچ رہی) تھی سو ہم نے اسے دور کر دیا اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال (بھی) عطا فرمائے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (عطا فرما دیئے)، یہ ہماری طرف سے خاص رحمت اور عبادت گزاروں کے لئے نصیحت ہے (کہ اﷲ صبر و شکر کا اجر کیسے دیتا ہے)،
اور ذوالنون (مچھلی کے پیٹ والے نبی علیہ السلام کو بھی یاد فرمائیے) جب وہ (اپنی قوم پر) غضبناک ہو کر چل دیئے پس انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ ہم ان پر (اس سفر میں) کوئی تنگی نہیں کریں گے پھر انہوں نے (دریا، رات اور مچھلی کے پیٹ کی تہہ در تہہ) تاریکیوں میں (پھنس کر) پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیری ذات پاک ہے، بیشک میں ہی (اپنی جان پر) زیادتی کرنے والوں میں سے تھا،
تو ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ہم نے انہیں یحیٰی (علیہ السلام) عطا فرمایا اور ان کی خاطر ان کی زوجہ کو (بھی) درست (قابلِ اولاد) بنا دیا۔ بیشک یہ (سب) نیکی کے کاموں (کی انجام دہی) میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں شوق و رغبت اور خوف و خشیّت (کی کیفیتوں) کے ساتھ پکارا کرتے تھے، اور ہمارے حضور بڑے عجز و نیاز کے ساتھ گڑگڑاتے تھے،
اس (پاکیزہ) خاتون (مریم علیہا السلام) کو بھی (یاد کریں) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسٰی علیہ السلام) کو جہان والوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیا،
اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب ہو جائے گا تو اچانک کافر لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی (وہ پکار اٹھیں گے:) ہائے ہماری شومئ قسمت! کہ ہم اس (دن کی آمد) سے غفلت میں پڑے رہے بلکہ ہم ظالم تھے،
(روزِ قیامت کی) سب سے بڑی ہولناکی (بھی) انہیں رنجیدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے (اور کہیں گے:) یہ تمہارا (ہی) دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا،
اس دن ہم (ساری) سماوی کائنات کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے لکھے ہوئے کاغذات کو لپیٹ دیا جاتا ہے، جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلی بار پیدا کیا تھا ہم (اس کے ختم ہو جانے کے بعد) اسی عملِ تخلیق کو دہرائیں گے۔ یہ وعدہ پورا کرنا ہم نے لازم کر لیا ہے۔ ہم (یہ اعادہ) ضرور کرنے والے ہیں،
پھر اگر وہ رُوگردانی کریں تو فرما دیجئے: میں نے تم سب کو یکساں طور پر باخبر کر دیا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ وہ (عذاب) نزدیک ہے یا دور جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے،
(ہمارے حبیب نے) عرض کیا: اے میرے رب! (ہمارے درمیان) حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے، اور ہمارا رب بے حد رحم فرمانے والا ہے، اسی سے مدد طلب کی جاتی ہے ان (دل آزار) باتوں پر جو (اے کافرو!) تم بیان کرتے ہو،