عرض کیا: اے میرے رب! میرے جسم کی ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اوربڑھاپے کے باعث سر آگ کے شعلہ کی مانند سفید ہوگیا ہے اور اے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا،
اور میں اپنے (رخصت ہوجانے کے) بعد (بے دین) رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں (کہ وہ دین کی نعمت ضائع نہ کر بیٹھیں) اور میری بیوی (بھی) بانجھ ہے سو تو مجھے اپنی (خاص) بارگاہ سے ایک وارث (فرزند) عطا فرما،
جو (آسمانی نعمت میں) میرا (بھی) وارث بنے اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد (کے سلسلۂ نبوت) کا (بھی) وارث ہو، اور اے میرے رب! تو (بھی) اسے اپنی رضا کا حامل بنا لے،
(زکریا علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے درآنحالیکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں خود بڑھاپے کے باعث (انتہائی ضعف میں) سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا ہوں،
فرمایا: (تعجب نہ کرو) ایسے ہی ہوگا، تمہارے رب نے فرمایا ہے: یہ (لڑکا پیدا کرنا) مجھ پر آسان ہے اور بیشک میں اس سے پہلے تمہیں (بھی) پیدا کرچکا ہوں اس حالت سے کہ تم (سرے سے) کوئی چیز ہی نہ تھے،
(زکریا علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما، ارشاد ہوا: تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم بالکل تندرست ہوتے ہوئے بھی تین رات (دن) لوگوں سے کلام نہ کرسکوگے،
اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ کتاب (قرآن مجید) میں مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیجئے، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (عبادت کے لئے خلوت اختیار کرتے ہوئے) مشرقی مکان میں آگئیں،
پس انہوں نے ان (گھر والوں اور لوگوں) کی طرف سے حجاب اختیار کر لیا (تاکہ حسنِ مطلق اپنا حجاب اٹھا دے)، تو ہم نے ان کی طرف اپنی روح (یعنی فرشتہ جبرائیل) کو بھیجا سو (جبرائیل) ان کے سامنے مکمل بشری صورت میں ظاہر ہوا،
(جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: (تعجب نہ کر) ایسے ہی ہوگا، تیرے رب نے فرمایا ہے: یہ (کام) مجھ پر آسان ہے، اور (یہ اس لئے ہوگا) تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشانی اور اپنی جانب سے رحمت بنادیں، اور یہ امر (پہلے سے) طے شدہ ہے،
پھر ان کے نیچے کی جانب سے (جبرائیل نے یا خود عیسٰی علیہ السلام نے) انہیں آواز دی کہ تو رنجیدہ نہ ہو، بیشک تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے (یا تمہارے نیچے ایک عظیم المرتبہ انسان کو پیدا کر کے لٹا دیا ہے)،
سو تم کھاؤ اور پیو اور (اپنے حسین و جمیل فرزند کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو، پھر اگر تم کسی بھی انسان کو دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے (خدائے) رحمان کے لئے (خاموشی کے) روزہ کی نذر مانی ہوئی ہے سو میں آج کسی انسان سے قطعاً گفتگو نہیں کروں گی،
یہ اللہ کی شان نہیں کہ وہ (کسی کو اپنا) بیٹا بنائے، وہ (اس سے) پاک ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہی حکم دیتا ہے: ”ہوجا“ بس وہ ہوجاتا ہے،
جب انہوں نے اپنے باپ (یعنی چچا آزر سے جس نے آپ کے والد تارخ کے انتقال کے بعد آپ کو پالا تھا) سے کہا: اے میرے باپ! تم ان (بتوں) کی پرستش کیوں کرتے ہو جو نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ تم سے کوئی (تکلیف دہ) چیز دور کرسکتے ہیں،
(آزر نے) کہا: اے ابراہیم! کیا تم میرے معبودوں سے روگرداں ہو؟ اگر واقعی تم (اس مخالفت سے) باز نہ آئے تو میں تمہیں ضرور سنگ سار کر دوں گا اور ایک طویل عرصہ کے لئے تم مجھ سے الگ ہوجاؤ،
(ابراہیم علیہ السلام نے) کہا: (اچھا) تمہیں سلام، میں اب (بھی) اپنے رب سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا، بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے (شاید تمہیں ہدایت عطا فرما دے)،
اور میں تم (سب) سے اور ان (بتوں) سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو کنارہ کش ہوتا ہوں اور اپنے رب کی عبادت میں (یک سُو ہو کر) مصروف ہوتا ہوں، امید ہے میں اپنے رب کی عبادت کے باعث محرومِ (کرم) نہ رہوں گا،
پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) ان لوگوں سے اور ان (بتوں) سے جن کی وہ اﷲ کے سوا پرستش کرتے تھے (میل ملاپ چھوڑ کر) بالکل جدا ہو گئے (تو) ہم نے انہیں اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے، علیھما السلام) سے نوازا، اور ہم نے ہر (دو) کو نبی بنایا،
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے زمرۂ انبیاء میں سے آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں اور ان (مومنوں) میں سے ہیں جنہیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں (طوفان سے بچا کر) اٹھا لیا تھا، اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اور اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں اور ان (منتخب) لوگوں میں سے ہیں جنہیں ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ بنایا، جب ان پر (خدائے) رحمان کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے وہ سجدہ کرتے ہوئے اور (زار و قطار) روتے ہوئے گر پڑتے ہیں،
پھر ان کے بعد وہ ناخلف جانشین ہوئے جنہوں نے نمازیں ضائع کردیں اور خواہشاتِ (نفسانی) کے پیرو ہوگئے تو عنقریب وہ آخرت کے عذاب (دوزخ کی وادئ غی) سے دوچار ہوں گے،
اور (جبرائیل میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہو کہ) ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر (زمین پر) نہیں اتر سکتے، جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے (سب) اسی کا ہے، اور آپ کا رب (آپ کو) کبھی بھی بھولنے والا نہیں ہے،
(وہ) آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دو کے درمیان ہے (سب) کا رب ہے پس اس کی عبادت کیجئے اور اس کی عبادت میں ثابت قدم رہئے، کیا آپ اس کا کوئی ہم نام جانتے ہیں،
پس آپ کے رب کی قسم ہم ان کو اور (جملہ) شیطانوں کو (قیامت کے دن) ضرور جمع کریں گے پھر ہم ان (سب) کو جہنم کے گرد ضرور حاضر کر دیں گے اس طرح کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہوں گے،
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں: (اسی دنیا میں دیکھ لو! ہم) دونوں گروہوں میں سے کس کی رہائش گاہ بہتر اور مجلس خوب تر ہے،
فرما دیجئے: جو شخص گمراہی میں مبتلا ہو تو (خدائے) رحمان (بھی) اسے عمر و عیش میں خوب مہلت دیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ لوگ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت، تب وہ اس شخص کو جان لیں گے جو رہائش گاہ کے اعتبار سے (بھی) برا ہے اور لشکر کے اعتبار سے (بھی) کمزور تر ہے،
اور اللہ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں مزید اضافہ فرماتا ہے، اور باقی رہنے والے نیک اعمال آپ کے رب کے نزدیک اجر و ثواب میں (بھی) بہتر ہیں اور انجام میں (بھی) خوب تر ہیں،
سو بیشک ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں ہی آسان کر دیا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا سکیں اور اس کے ذریعہ جھگڑالو قوم کو ڈر سنا سکیں،