(اے نبی(ص)) اپنے بلند و برتر پروردگار کے نام کی تسبیح کیجئے۔
جس نے (ہر چیزکو) پیدا کیا پھر درست کیا (تناسب قائم کیا)۔
جس نے تقدیر مقرر کی (ہر چیز کا اندازہ مقرر کیا) اور (سیدھی) راہ دکھائی۔
اس نے (جانوروں کیلئے) زمین سے چارہ نکالا۔
پھر اسے (خشک کرکے) سیاہی مائل کوڑا بنا دیا۔
ہم آپ(ص) کو (ایسا) پڑھائیں گے کہ پھر آپ(ص) نہیں بھولیں گے۔
مگر جو اللہ چاہے (بھلا دے) بےشک وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور اس کو بھی جو چھپا ہوا ہے۔
اور ہم آپ(ص) کو آسان (شریعت) کی سہولت دیں گے۔
پس آپ(ص) نصیحت کیجئے اگر نصیحت کچھ فائدہ پہنچائے۔
وہ شخص نصیحت قبول کرے گا جو (خدا و آخرت سے) ڈرتا ہوگا۔
اور جو بدبخت ہے وہ اس سے گریز کرے گا۔
پھر وہ اس میں نہ مرے گا نہ جئے گا۔
وہ شخص فائز المرام ہوا جس نے اپنے آپ کو (بداعتقادی و بدعملی سے) پاک کیا۔
اور اپنے پروردگار کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی۔
مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو (آخرت پر) ترجیح دیتے ہو۔
حالانکہ آخرت بہتر ہے اور پائیدار ہے۔
یقیناً یہ بات پہلے صحیفوں میں بھی ہے۔
یعنی ابراہیم(ع) اور موسیٰ(ع) کے صحیفوں میں۔