سورة Abasa ( He frowned )

سورة Abasa ( He frowned ) - Urdu Najafi عدد الآيات 42

(ایک شخص نے) تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔
کہ اس (پیغمبرِ اسلام (ص)) کے پاس ایک نابینا آیا۔
اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ پاکیزہ ہو جاتا۔
یا نصیحت حاصل کرتا اور نصیحت اسے فائدہ پہنچاتی۔
جوشخص مالدار ہے (یا بےپروائی کرتا ہے)۔
تو تم اس کی طرف تو توجہ کرتے ہو۔
حالانکہ تم پر کوئی الزام نہیں اگر وہ پاکیزہ نہیں ہوتا۔
اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا (شوق سے) آتا ہے۔
اور (خدا سے) ڈرتا ہے۔
تو تم اس سے بےرُخی بر تتے ہو۔
ہرگز نہیں! یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے۔
جو چاہے اسے قبول کرے۔
یہ (قرآن) ان صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں۔
بلند مر تبہ (اور) پاک و پاکیزہ ہیں۔
جو ایسے کاتبوں کے ہاتھوں سے (لکھے ہوئے) ہیں۔
جو معزز اور نیکوکار ہیں۔
غارت ہو (منکر) انسان یہ کتنا بڑا ناشکرا ہے؟
اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا ہے؟
نطفہ سے اسے پیدا کیا ہے اور پھر اس کے اعضاء و جوا رح کا اندازہ مقرر کیا ہے۔
پھر (زندگی کا) راستہ اس کے لئے آسان کر دیا۔
پھر اس کو موت دی پھر اسے قبر میں پہنچایا۔
پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا۔
ہرگز نہیں (بایں ہمہ) اس نے اسے پورا نہ کیا جس کا (خدا نے) اسے حکم دیا تھا۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی غذا کی طرف دیکھے۔
ہم نے اچھی طرح خوب پانی برسایا۔
پھر ہم نے زمین کو اچھی طرح شگافتہ کیا۔
اور انگور اور ترکاریاں اگائیں۔
اور زیتون اور کجھوریں۔
جو تمہارے اور تمہارے مویشوں کیلئے سامانِ زندگی کے طور پر ہے۔
پس جب کانوں کو پھاڑ دینے والی آواز آجائے گی۔
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔
اس دن ان میں ہر شخص کا یہ عالم ہوگا جو اسے سب سے بےپروا کر دے گا۔
خنداں و شاداں (اور خوش و خرم) ہوں گے۔
ور کچھ چہرے ایسے ہوں گے جن پر گرد و غبار پڑی ہوئی ہوگی۔
اور ان پر سیاہی چھائی ہوگی۔
مشاركة الموضوع