سورة Al-Mursalat ( Those sent forth )

سورة Al-Mursalat ( Those sent forth ) - Urdu Najafi عدد الآيات 50

قَسم ہے ان کی جو مسلسل چھوڑ دی جاتی ہیں۔
پھر (آندھی کی طرح) تیز و تند چلتی ہیں۔
جو (بادلوں کو) پھیلانے والی ہیں۔
پھر (انہیں) متفرق کر دیتی ہیں۔
پھر (دلوں میں) یاد (الٰہی) ڈالتی ہیں۔
(حجت تمام کر کے) عذر قطع کرنے کیلئے یا ڈراوے کیلئے۔
بےشک جس چیز کا تم سے وعدہ وعید کیا جا رہا ہے وہ ضرور واقع ہو نے والی ہے۔
پس جب ستارے گرائے جائیں گے۔
اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا۔
اور جب پہاڑ (ریزہ ریزہ کر کے) اڑا دیئے جائیں گے۔
اور جب رسول(ع) وقتِ معیّن پر حاضر کئے جائیں گے۔
(آخر) کس دن کیلئے یہ تاخیر کی گئی؟
فیصلے کے دن کے لئے۔
تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟
تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔
کیا ہم نے پہلے والوں کو ہلاک نہیں کیا۔
پھر ان کے پیچھے بھیجے گئے لوگوں کو۔
ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی (سلوک) کرتے ہیں۔
تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔
کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدانہیں کیا؟
پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ مقام (رحمِ مادر) میں رکھا۔
(اس سے ثابت ہوا کہ) ہم قادر ہیں پس ہم کیسے اچھے قادر ہیں۔
(ہم کیسا اچھا اندازہ کرنے والے ہیں) تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔
کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔
زندوں کو بھی اور مُردوں کو بھی۔
اور ہم نے اس میں بلند و بالا پہاڑ بنائے اور تمہیں خوشگوار (اور میٹھے) پانی سے سیراب کیا۔
تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔
(حکم ہوگا) جاؤ اس (دوزخ) کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
جاؤ اس سایہ کی طرف جس کی تین شاخیں ہیں۔
جو نہ سایہدار ہے اور نہ آگ کے شعلوں سے بچاتا ہے۔
وہ (دوزخ) اونچے مَحلوں کی مانند انگارے پھینکتی ہے۔
گویا کہ وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں۔
تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔
یہ وہ دن ہوگا جس میں وہ بول نہیں سکیں گے۔
اور نہ ہی انہیں اجازت دی جائے گی کہ معذرت کر سکیں۔
تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔
یہ فیصلے کا دن ہے جس میں ہم نے تمہیں اور پہلے والوں کو جمع کر دیا ہے۔
اگر تمہارے پاس (دوزخ سے بچنے کے لئے) کوئی تدبیر ہے تو میرے مقابلہ میں چلاؤ۔
تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔
بےشک پرہیزگار لوگ (اس دن) (رحمتِ خدا کے) سایوں میں اور چشموں میں ہوں گے۔
اور ان پھلوں میں ہوں گے جنہیں وہ چاہیں گے۔
(ان سے کہاجائے گا) مزے سے کھاؤ اور پیو اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم (دنیا میں) کرتے رہے ہو۔
بےشک ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔
تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔
(اے جھٹلانے والو) تم تھوڑے دن (دنیا میں) کھا لو اورفائدہ اٹھا لو (بہرحال) تم لوگ مجرم ہو۔
تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہیں کرتے۔
تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کے لئے۔
(آخر) وہ لوگ اس (قرآن) کے بعد کس کلام پر ایمان لائیں گے؟
مشاركة الموضوع