اور رات اور دن کی آمد ورفت میں اس (ذریعہ) رزق (بارش) میں جو اللہ نے آسمانوں سے نازل کیا اور اس سے زمین کو زندہ کر دیا اس کی موت کے بعد اور ہواؤں کی گردش میں بھی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
جو اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے جب اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں پھر وہ تکبر کے ساتھ اس طرح اَڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں۔ بس تم اسے دردناک عذاب کی خبر دے دو۔
ان کے آگے جہنم ہے اور انہوں نے جو کچھ کیا کمایا ہے وہ انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا اور نہ ہی وہ ان کے کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کارساز بنا رکھا ہے اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔
(اے رسول(ص)) ایمان والوں سے کہیے! کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے (خاص) دنوں کی امید نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کے ان سارے اعمال کا بدلہ دے جو وہ کیا کرتے تھے۔
جو کوئی نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے فائدہ کیلئے کرتا ہے اورجو کوئی بر ائی کرتا ہے اس کا وبال بھی اسی پر پڑتا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
اورہم نے انہیں دین کے معاملہ میں کھلے دلائل عطا کئے پس انہوں نے اس میں اختلاف نہیں کیا مگر علم آجانے کے بعد محض باہمی ضد اور ظلم کی وجہ سے۔ بےشک قیامت کے دن آپ(ص) کا پروردگار ان کے درمیان فیصلہ کرے گا جن چیزوں میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے۔
وہ اللہ کے مقابلہ میں آپ(ص) کو ہرگز کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ یقیناً ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں اور اللہ تو پرہیزگاروں کا ساتھی (اور پُشت پناہ) ہے۔
کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کی مانند قرار دیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے؟ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے گا؟ بہت براہے وہ فیصلہ جو وہ کر رہے ہیں۔
کیا آپ(ص) نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا رکھاہے اوراللہ نے باوجود علم کے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پر دہ ڈال دیا ہے اللہ کے بعد کون ایسے شخص کو ہدایت کر سکتا ہے؟ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس یہی دنیٰوی زندگی ہے۔ یہیں ہم مرتے ہیں اور یہیں جیتے ہیں اور ہمیں صرف گردشِ زمانہ ہلاک کرتی ہے حالانکہ انہیں اس (حقیقت) کا کوئی علم نہیں ہے وہ محض گمان کی بناء پر ایسا کہتے ہیں۔
اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت اور دلیل نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر کے) لاؤ۔
آپ(ص) کہہ دیجئے! اللہ ہی تمہیں زندہ رکھتا ہے وہی تمہیں موت دیتا ہے پھر وہی تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) جانتے نہیں ہیں۔
اور آپ دیکھیں گے کہ اس وقت ہر گروہ گھٹنوں کے بل گرا ہوا اپنے (فیصلے کامنتظر) ہوگا اور ہر گروہ کو اس کی کتاب (صحیفۂ عمل) کی طرف بلایا جائے گا (اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
اورجب (تم سے) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے؟ بس ایک گمان ہے جو ہم کرتے ہیں اور ہمیں اس کا یقین نہیں ہے۔
اور (ان سے کہا) جائے گا کہ آج ہم تمہیں اس طرح نظر انداز کریں گے جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات (حاضری) کو بُھلا دیا تھا۔ تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے۔
یہ اس لئے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کامذاق اڑایا تھا اوردنیاوی زندگی نے تمہیں دھوکہ میں مبتلا کیا۔ پس وہ آج نہ تو اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کو معذرت (خدا کو راضی) کرنے کاموقع دیا جائے گا۔