جو گناہ معاف کرنے والا (اور) توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا (اور) عطا و بخشش والا ہے اس کے سوا کوئی الٰہ (خدا) نہیں ہے سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔
اللہ کی آیتوں کے بارے میں صرف کافر ہی جھگڑا کرتے ہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کا (مختلف) شہروں میں (آزادی) کے ساتھ گھومنا پھرنا کہیں آپ کو دھوکہ میں نہ ڈال دے (کہ انہیں عذاب نہیں ہوگا)۔
ان سے پہلے نوح(ع) کی قوم نے (نوح(ع) کو) جھٹلایا اور ان کے بعد اور بہت سے گروہوں نے (اپنے رسولوں(ع) کو) جھٹلایا اور ہر امت نے ارادہ کیا کہ اپنے رسول(ع) کو گرفتار کرے (اور پھر شہید کر دے) اور ناحق طریقہ پر جھگڑا کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے حق کو شکست دے۔ سو (انجامِ کار) میں نے ان کو پکڑ لیا تو میرا عذاب کیسا (سخت) تھا۔
جو (فرشتے) عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے اردگرد میں وہ سب اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کیلئے مغفرت طلب کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تو اپنی رحمت اور اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ پس تو ان لوگوں کو بخش دے جو توبہ کرتے ہیں اور تیرے راستہ کی پیروی کرتے ہیں اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
اے ہمارے پروردگار! اور ان کو ان ہمیشہ رہنے والے بہشتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے آباء و اجداد، بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح اور لائق ہوں ان کو بھی (بخش دے اور وہیں ان کے ہمراہ داخل کر) بے شک تو غالب ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا (قیامت کے دن) ان کو پکار کر کہا جائے گا کہ جتنا (آج) تم اپنے آپ سے بیزار ہو۔ اللہ اس سے زیادہ اس وقت تم سے بیزار (ناراض) ہوتا تھا جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر اختیار کرتے تھے۔
وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور دو بار زندہ کیا بس اب ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں کیا اب (یہاں سے) نکلنے کی کوئی صورت ہے؟
(جواب ملے گا کہ) یہ اس لئے ہے کہ جب (تمہیں) خدائے واحد و یکتا کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کر دیتے تھے اور اگر کسی کو اس کا شریک بنایا جاتا تھا تو تم جان لیتے تھے اب فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے جو عالیشان ہے (اور) بزرگ ہے۔
وہ (اللہ) وہی ہے جو تمہیں اپنی (قدرت کی ) نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق نازل کرتا ہے اور ان (نشانیوں) سے نصیحت صرف وہی حاصل کرتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے۔
(وہ) بلند درجوں والا (اور) عرش کا مالک ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح (وحی) کو نازل کرتا ہے تاکہ وہ بارگاہِ الٰہی میں حضوری والے دن سے ڈرائے۔
وہ دن جب لوگ ظاہر ہوں گے ان کی کوئی بات اللہ پر پوشیدہ نہ ہوگی (آواز آئے گی) آج کس کی حکومت ہے؟ (جواب ملے گا) صرف اللہ کی جو واحد و یکتا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے۔
اور لوگوں کو اس دن (قیامت) سے ڈرائیے جو قریب آنے والا ہے جس دن دل (کھینچ کر) گلوں تک آجائیں گے (اور) وہ غم و غصہ سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ ظالموں کیلئے کوئی (مخلص) دوست نہ ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارشی جس کی بات مانی جائے۔
اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور جنہیں وہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ بیشک اللہ بڑا سننے والا (اور) بڑا دیکھنے والا ہے۔
کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ دیکھیں کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے؟ قوت کے لحاظ سے اور زمین میں چھوڑے ہوئے آثار کے اعتبار سے ان سے زیادہ طاقتور تھے تو اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو پکڑا تو ان کو اللہ (کی گرفت) سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔
(ان کا یہ انجام) اس لئے ہوا کہ ان کے رسول(ع) ان کے پاس کھلی نشانیاں (معجزے) لے کر آتے تھے تو وہ کفر کرتے تھے۔ آخرکار اللہ نے انہیں پکڑ لیا بیشک وہ بڑا طاقتور (اور) سخت سزا دینے والا ہے۔
سو جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی عورتوں (لڑکیوں) کو زندہ چھوڑ دو۔ اور کافروں کی( ہر) تدبیر گمراہی میں (رائیگاں) ہے۔
اور فرعون نے کہا کہ مجھے چھوڑ دو۔ میں موسیٰ(ع) کو قتل کر دوں اور وہ (اپنی مدد کیلئے) اپنے پرورگار کو پکارے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کہیں تمہارا دین (شرک) نہ بدل دے۔ یا زمین میں فساد برپا نہ کر دے۔
اور فرعون کے خاندان میں سے ایک مردِ مؤمن نے کہا جو اپنے ایمان کو چھپائے رکھتا تھا۔ کیا تم ایک شخص کو صرف اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس بیّنات (معجزات) لے کر آیا ہے اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہے تو جس (عذاب) کی وہ تمہیں دھمکی دیتا ہے تو اس کا کچھ حصہ تو تمہیں پہنچ کر رہے گا۔ بیشک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا اور بڑا جھوٹا ہو۔
اے میری قوم! (بے شک) آج تمہاری حکومت ہے (اور) اس سر زمین میں تمہیں غلبہ بھی حاصل ہے لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو کون ہماری مدد کرے گا؟ (اور اس سے ہمیں کون بچائے گا؟) (مؤمن کی یہ بات سن کر) فرعون نے کہا میں تمہیں وہی رائے دیتا ہوں۔ جو میں (درست) سمجھتا ہوں اور میں تمہاری راہنمائی صرف اسی راستہ کی طرف کرتا ہوں جو سیدھا ہے۔
جس دن تم پیٹھ پھیر کر (دوزخ کی طرف) بھاگوگے تمہیں اللہ کے (عذاب) سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو اللہ گمراہی میں چھوڑ دے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہوتا۔
اور (اے میری قوم) اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف(ع) کھلی ہوئی دلیلیں (معجزات) لے کر آئے مگر تم برابر شک ہی میں پڑے رہے یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا (اب) اللہ ان کے بعد ہرگز کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہی میں چھوڑتا ہے جو حد سے بڑھنے والا (اور) شک کرنے والا ہوتا ہے۔
جو لوگ آیاتِ الٰہی میں جھگڑے کرتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو۔ یہ روش اللہ اور اہلِ ایمان کے نزدیک سخت مبغوض (اور ناپسندیدہ) ہے اللہ اسی طرح ہر منکر و سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
یعنی آسمانوں کے راستوں تک (اور پھر وہاں سے) موسیٰ(ع) کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کیلئے اس کا بدعمل خوشنما بنا دیا گیا اور وہ (سیدھے) راستہ سے روک دیا گیا اور فرعون کی ہر تدبیر (چالبازی) غارت ہی گئی (اور اس کی تباہی پر منتج ہوئی)۔
کوئی برائی کرتا ہے تو اسے بدلہ بھی اس کے برابر ملے گا اور جو کوئی نیک کام کرتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مؤمن ہو تو یہ بہشت میں داخل ہوں گے جہاں انہیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔
تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور ایسی چیز کو اس کا شریک بناؤں جس کا مجھے علم نہیں ہے اور میں تمہیں اس خدا کی طرف بلاتا ہوں جو (ہر چیز پر) غالب ہے (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔
یقیناً تم مجھے ایسی چیز کی دعوت دیتے ہو جو نہ دنیا میں کارآمد ہے اور نہ آخرت میں اور ہم سب کی بازگشت خدا ہی کی طرف سے اور جو حد سے بڑھنے والے ہیں وہی جہنمی ہیں۔
اور وہ وقت یاد کرو جب یہ لوگ جہنم میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ بڑا بننے والوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے کیا تم آگ کا کچھ حصہ ہم سے ہٹا سکتے ہو؟
وہ (جواب میں کہیں گے) کیا تمہارے پاس کھلی ہوئی دلیلیں لے کر تمہارے رسول(ع) نہیں آتے رہے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں اس پر داروغے کہیں گے کہ تم خود ہی دعا مانگو اور کافروں کی دعا و پکار بالکل گم شدہ ہے (اکارت جانے والی ہے)۔
یقیناً جو لوگ اللہ کی آیتوں کے بارے میں (آپ(ص) سے) جھگڑتے ہیں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو ان کے سینوں میں تکبر (بڑائی) کے سوا اور کچھ نہیں ہے جس تک وہ کبھی پہنچنے والے نہیں ہیں آپ(ص) اللہ کی پناہ مانگئے! بے شک وہ بڑا سننے (اور) بڑا دیکھنے والا ہے۔
اور تمہارا پروردگار کہتا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو۔ میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور جو لوگ میری (اس) عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل و خوار ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے۔
وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام (اور سکون حاصل) کرو اور دن کو روشن بنایا (تاکہ تم اس میں کام کرو) بے شک اللہ لوگوں پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔
وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے قرارگاہ اور آسمان کو عمارت (چھت) بنایا اور تمہاری صورت گری کی اور تمہاری صورتوں کو حسین (و جمیل) بنایا اور تمہیں کھانے کیلئے پاکیزہ غذائیں عطا کیں یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے پس بڑا ہی بابرکت الٰہ ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
وہی (حقیقی) زندہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ (خدا) نہیں ہے سو اسی کو پکارو دین کو اس کیلئے خالص کرتے ہوئے۔ ہر قسم کی تعریف اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ مجھے منع کر دیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو جبکہ میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس کھلی ہوئی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دوں (اس کا فرمانبردار بندہ بنوں)۔
اللہ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر تمہیں (شکمِ مادر سے) بچہ بنا کر نکالا۔ پھر (تمہاری پرورش کی) تاکہ تم اپنی پوری طاقت (جوانی) کو پہنچو (پھر زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اور تم میں سے کوئی پہلے اٹھا لیا جاتا ہے (یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ تم مقررہ وقت تک پہنچ جاؤ اور عقل سے کام لو (خدا کی قدرت و حکمت کو سمجھو)۔
جن لوگوں نے اس کتاب (قرآنِ مجید) کو جھٹلایا اور اس (پیغام) کو بھی جس کے ساتھ ہم نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا تو انہیں بہت جلد (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا۔
آپ(ص) صبر کیجئے یقیناً اللہ کا وعدہ برحق ہے پھر جس (عذاب) کی ہم انہیں دھمکی دیتے رہے ہیں خواہ اس کا کچھ حصہ آپ کو (آنکھوں سے) دکھا دیں یا اس سے پہلے آپ کو دنیا سے اٹھا لیں۔ بہرحال ان سب کی بازگشت تو ہماری طرف ہی ہے (وہ اس سے بچ نہیں سکتے)۔
ہم نے آپ(ص) سے پہلے بہت سے رسول بھیجے جن میں سے بعض کے حالات آپ سے بیان کر دیئے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ جن کے حالات آپ سے بیان نہیں کئے اور کسی رسول کیلئے یہ ممکن نہ تھا کہ اللہ کے اذن (حکم) کے بغیر کوئی معجزہ پیش کرے اور جب اللہ کا حکم آجائے گا تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اس وقت باطل والے خسارے میں رہیں گے۔
کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزرے ہیں جو تعداد میں ان سے زیادہ تھے اور طاقت میں اور زمین میں اپنی چھوڑی ہوئی نشانیوں کے اعتبار سے ان سے بڑھے ہوئے تھے لیکن ان کی سب کمائی کچھ ان کے کام نہ آئی۔
جب ان کے رسول ان کے پاس بیّنات (معجزات) لے کر آئے تو وہ اپنے اس علم پر نازاں و فرحاں رہے جو ان کے پاس تھا اور (انجامِ کار) اسی (عذاب) نے انہیں گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد و یکتا پر ایمان لاتے ہیں اور ان سب چیزوں کا انکار کرتے ہیں جنہیں ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔
پس ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ یہی اللہ کا طریقہ ہے جو (ہمیشہ سے) اس کے بندوں میں جاری ہے اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں رہ گئے۔