اور اللہ نے کسی مرد کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے اور نہ ہی تمہاری ان بیویوں کو تمہاری مائیں بنایا ہے جن سے تم ظہار کرتے ہو اور نہ ہی اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (حقیقی) بیٹا بنایا ہے اور وہی (سیدھے) راستے کی ہدایت کرتا ہے۔
ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے (حقیقی) باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرینِ انصاف ہے اور اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم نہ ہو تو پھر وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں اور تم سے جو بھول چوک ہو جائے اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ ہاں البتہ (گناہ اس پر ہے) جو تم دل سے ارادہ کرکے کرو۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے۔
نبی مؤمنین پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق (تصرف) رکھتے ہیں۔ اور آپ کی بیویاں ان (مؤمنین) کی مائیں ہیں اور کتاب اللہ کی رو سے رشتہ دار بہ نسبت عام مؤمنین و مہاجرین کے (وراثت میں) ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے۔
اور وہ وقت یاد کرو۔ جب ہم نے نبیوں سے عہد و پیمان لیا تھا اور آپ سے بھی اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے بھی اور ہم نے ان سب سے سخت عہد لیا تھا۔
اے ایمان والو! اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے جب (کفار کے) لشکر تم پر چڑھ آئے اور ہم نے (تمہاری مدد کیلئے) ان پر ہوا (آندھی) بھیجی اور (فرشتوں کے) ایسے لشکر بھیجے جن کو تم نے نہیں دیکھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے۔ اللہ اسے خوب دیکھ رہا تھا۔
اور وہ وقت یاد کرو جب ان میں سے ایک گروہ کہنے لگا کہ اے یثرب والو! اب (یہاں) تمہارے ٹھہرنے کا موقع نہیں ہے سو واپس چلو اور ان میں سے ایک گروہ یہ کہہ کر پیغمبرِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے اجازت مانگ رہا تھا کہ ہمارے گھر خالی (غیر محفوظ) ہیں حالانکہ وہ خالی (غیر محفوظ) نہیں تھے وہ تو صرف (محاذ سے) بھاگنا چاہتے تھے۔
اور اگر ان پر اسی (مدینہ) کے اطراف سے (دشمن) گھس آتے اور پھر انہیں اس فتنہ (میں شرکت) کی دعوت دی جاتی تو یہ اس میں پڑ جاتے اور اس میں زیادہ توقف نہ کرتے۔
آپ کہہ دیجئے! کہ اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گا اگر ایسا کیا بھی تو پھر بھی (زندگانی دنیا سے) تمہیں لطف اندوز ہونے کا بہت تھوڑا موقع دیا جائے گا۔
آپ کہئے! کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے یا اگر وہ تم پر مہربانی کرنا چاہے (تو اسے کون روک سکتا ہے؟) اور وہ لوگ اللہ کے سوا اپنا نہ کوئی سرپرست پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔
اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جہاد سے) روکتے ہیں اور انہیں بھی جو اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ (محاذِ جنگ چھوڑ کر) ہماری طرف آجاؤ اور یہ لوگ میدانِ جنگ میں بہت کم آتے ہیں۔
وہ تمہارے معاملہ میں سخت بخیل ہیں اور جب خوف (کا وقت) آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھوم رہی ہیں جس پر موت کی غشی طاری ہو پھر جب خوف جاتا رہے تو یہ لوگ (اپنی) تیز زبانوں سے طعنہ دیتے ہیں یہ مال (غنیمت) کے بڑے حریص ہیں (دراصل) یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں چنانچہ اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے ہیں اور ایسا کرنا اللہ کیلئے بالکل آسان ہے۔
(دشمن چلا گیا مگر) یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ابھی لشکر گئے نہیں ہیں اور اگر وہ لشکر (دوبارہ) آجائیں تو یہ پسند کریں گے کہ کاش ہم صحرا میں بدوؤں کے ساتھ جا کر رہیں اور وہاں سے تمہاری خبریں پوچھتے رہیں اور اگر تم میں ہوتے تو جب بھی (دشمن سے) جنگ نہ کرتے مگر بہت کم۔
بے شک تمہارے لئے پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذات میں (پیروی کیلئے) بہترین نمونہ موجود ہے۔ ہر اس شخص کیلئے جو اللہ (کی بارگاہ میں حاضری) اور قیامت (کے آنے) کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہے۔
اور (سچے) اہلِ ایمان کا حال یہ تھا کہ جب انہوں نے لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ ہے وہ (لشکر) جس کا خدا اور رسول نے وعدہ کیا تھا اور خدا اور رسول نے سچ فرمایا تھا اور اس (بات) نے ان کے ایمان اور (جذبۂ) تسلیم میں مزید اضافہ کر دیا۔
اور اہلِ ایمان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے وہ عہد و پیمان سچا کر دکھایا جو اللہ سے کیا تھا۔ سو ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنا وقت پورا کر چکے ہیں اور کچھ اس (وقت) کا انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے (اپنی روش میں) ذرا بھی تبدیلی نہیں کی۔
اور اللہ نے کافروں کو غم و غصہ کی حالت میں (بے نیل مُرام) لوٹایا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکے اور اللہ نے مؤمنوں کو جنگ (کی زحمت) سے بچا لیا اور اللہ بڑا طاقتور (اور) غالب ہے۔
خدا نے ان اہلِ کتاب کو جنہوں نے ان (کفار) کی مدد کی تھی ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ چنانچہ تم ان میں سے بعض کو قتل کرنے لگے اور بعض کو قید کر لیا۔
اور (خدا نے) تمہیں ان (کافروں) کی زمین کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے اموال کا اور ان کی اس زمین کا جس پر تم نے قدم بھی نہیں رکھا تھا وارث بنا دیا اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
اور تم میں سے جو خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرتی رہے گی تو ہم اس کو اس کا اجر و دہرا دیں گے اور ہم نے اس کیلئے (جنت میں) عمدہ روزی تیار کر رکھی ہے۔
اے نبی کی بیویو! تم اور (عام) عورتوں کی طرح نہیں ہوا اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ پس تم ایسے نرم لہجہ میں بات نہ کرو کہ جس کے دل میں کوئی بیماری ہے وہ طمع کرنے لگے اور قاعدے کے مطابق (باوقار طریقہ سے) بات کیا کرو۔
اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور سابقہ زمانۂ جاہلیت کی طرح اپنی آرائش کی نمائش نہ کرتی پھرو (باہر نہ نکلا کرو) اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرو۔ اے اہل بیت! اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کے رجس (آلودگی) کو دور رکھے اور تمہیں اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے۔
بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں، اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں، سچے مرد اور سچی عورتیں، صابر مرد اور صابر عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو بکثرت یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں اللہ نے ان کیلئے مغفرت اور بڑا اجر و ثواب مہیا کر رکھا ہے۔
کسی مؤمن مرد اور کسی مؤمن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو انہیں اپنے (اس) معاملے میں کوئی اختیار ہو اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے گا۔
(اے رسول! وہ وقت یاد کرو) جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور آپ نے احسان کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دے (اسے نہ چھوڑ) اور اللہ سے ڈر۔ اور آپ (اس وقت) وہ بات اپنے دل میں چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں (کی طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں (بہرحال) جب زید نے اس عورت (زینب) سے اپنی حاجت پوری کر لی (اسے طلاق دے دی) تو ہم نے اس خاتون کی شادی آپ سے کر دی تاکہ اہلِ ایمان پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے (نکاح کرنے) کے معاملے میں کوئی تنگی نہ رہ جائے جب وہ ان سے (اپنی) حاجت پوری کر چکے ہوں (اور انہیں طلاق دے کر فارغ کر چکے ہوں) اور اللہ کا حکم تو بہرحال ہوکر رہتا ہے۔
اس کام کے کرنے میں نبی(ص) پر کوئی مضائقہ نہیں ہے جو خدا نے ان کیلئے مقرر کیا ہے جو لوگ (انبیاء(ع)) اس سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کا یہی معمول رہا ہے اور اللہ کا حکم حقیقی اندازے کے مطابق مقرر کیا ہوا ہوتا ہے۔
وہ (پیغمبر(ص)) ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے پیغامات (اس کے بندوں تک) پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور وہ اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں ڈرتے اور محاسبہ کیلئے اللہ ہی کافی ہے۔
محمد (صلی اللہ علیہ و آلہٰ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ ہاں البتہ وہ اللہ کے رسول(ص) اور خاتم النبیین(ص) (سلسلۂ انبیاء کے ختم کرنے والے اور مہرِ اختتام) ہیں اور خدا ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔
وہ (اللہ) وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی (دعائے مغفرت) کرتے ہیں تاکہ تمہیں (دوزخ اور جحیم کی) تاریکیوں سے نور (جنت و نعیم) کی طرف نکال لائے اور وہ اہلِ ایمان پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔
اور (خبردار) کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کیجئے گا اور ان کی اذیت رسانی کو چھوڑ دیجئے (اس کی پرواہ نہ کریں) اور اللہ پر بھروسہ کیجئے اور کارسازی کیلئے اللہ کافی ہے۔
اے ایمان والو! جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے (مباشرت کرنے) سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت نہیں ہے جسے تم شمار کرو (اور جس کے دنوں کو گنو) لہٰذا انہیں کچھ مال دے کر اور خوبصورتی سے رخصت کر دو۔
اے نبی(ص)! ہم نے آپ کیلئے آپ کی وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جن کے مہر آپ نے ادا کر دیئے ہیں اور وہ مملوکہ کنیزیں جو اللہ نے بطورِ غنیمت آپ کو عطا کی ہیں اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے (یہ سب بھی حلال ہیں) اور اس مؤمن عورت کو بھی (حلال کیا ہے) اگر وہ اپنا نفس نبی(ص) کو ھبہ کر دے بشرطیکہ نبی(ص) بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں یہ (اجازت) صرف آپ کیلئے ہے دوسرے مؤمنوں کیلئے نہیں ہے ہم جانتے ہیں جو (احکام) ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور مملوکہ کنیزوں کے بارے میں مقرر کئے ہیں تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی نہ ہو اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
(آپ کو اختیار ہے کہ) اپنی ازواج میں سے جس کو چاہیں دور کر دیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جن کو آپ نے علیٰحدہ کر دیا تھا اگر ان میں سے کسی کو (دوبارہ) طلب کرنا چاہیں تو اس میں بھی آپ کیلئے کوئی مضائقہ نہیں ہے یہ (اختیار جو آپ کو دیا گیا ہے) اس سے قریب تر ہے کہ ان (ازواج) کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور آپ انہیں جو کچھ عطا فرمائیں وہ سب کی سب اس پر خوش ہو جائیں اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے اور (بے شک) اللہ بڑا جاننے والا (اور) بڑا بردبار ہے۔
اب اس کے بعد اور عورتیں آپ کیلئے حلال نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی اجازت ہے کہ ان کے بدلے اور بیویاں لے آئیں اگرچہ ان کا حسن و جمال آپ کو کتنا ہی پسند ہو۔ سوائے ان (کنیزوں) کے جو آپ کی ملکیت میں ہیں اور اللہ ہر چیز کا نگران ہے۔
اے ایمان والو! نبی(ص) کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو۔ مگر جب تمہیں کھانے کیلئے (اندر آنے کی) اجازت دی جائے (اور) نہ ہی اس کے پکنے کا انتظار (نبی(ص) کے گھر میں بیٹھ کر کیا) کرو۔ لیکن جب تمہیں بلایا جائے تو (عین وقت پر) اندر داخل ہو جاؤ پھر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور دل بہلانے کیلئے باتوں میں نہ لگے رہو کیونکہ تمہاری باتیں نبی(ص) کو اذیت پہنچاتی ہیں مگر وہ تم سے شرم کرتے ہیں (اور کچھ نہیں کہتے) اور اللہ حق بات (کہنے سے) نہیں شرماتا اور جب تم ان (ازواجِ نبی(ص)) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ (طریقۂ کار) تمہارے دلوں کیلئے اور ان کے دلوں کیلئے پاکیزگی کا زیادہ باعث ہے اور تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ تم رسولِ(ص) خدا کو اذیت پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد کبھی بھی ان کی بیویوں سے نکاح کرو بیشک یہ بات اللہ کے نزدیک بہت بڑی (برائی گناہ کی) بات ہے۔
ان (ازواج النبی(ص)) کیلئے اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ان کے باپ، ان کے بیٹے، ان کے بھائی، ان کے بھتیجے، بھانجے اور ان کی اپنی (مسلمان) عورتیں اور ان کی مملوکہ کنیزیں (ان کے) سامنے آئیں اور اللہ سے ڈرتی رہو۔ بے شک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
اور جو لوگ مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو اذیت پہنچاتے ہیں بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی (جرم) کیا ہو۔ بے شک وہ ایک بڑے بہتان اور کھلے ہوئے گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
اے نبی(ص)! آپ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور (عام) اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ (باہر نکلتے وقت) اپنے اوپر چادر (بطور گھونگھٹ) لٹکا لیا کریں یہ طریقہ قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں اور اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے (اپنی حرکتوں سے) باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے خلاف حرکت میں لے آئیں گے پھر وہ (مدینہ) میں آپ کے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر بہت کم۔
لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کب آئے گی؟) آپ کہہ دیجئے! کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے (اے سائل!) تمہیں کیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو؟
اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ(ع) کو اذیت پہنچائی تھی تو اللہ نے انہیں ان کی ان باتوں (تہمتوں) سے بَری کر دیا اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے معزز تھے۔
بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا مگر ان سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے (بلا تامل) اٹھا لیا بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔
تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور منافق عورتوں کو سزا دے اور (تاکہ) مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی توبہ قبول کرے (ان پر نظرِ توجہ فرمائے) اور بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔