(وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے تو میں ابھی وہاں سے کوئی خبر لاتا ہوں یا آگ کا کوئی انگارہ لاتا ہوں تاکہ تم تاپو۔
پھر جب وہ اس کے پاس آئے تو (انہیں) ندا دی گئی کہ مبارک ہے وہ جس کا جلوہ آگ میں ہے۔ اور جس کا جلوہ اس کے اردگرد ہے اور پاک ہے اللہ جو پروردگارِ عالمیان ہے۔
اور تم اپنا عصا پھینکو۔ پھر جب انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ حرکت کر رہا ہے جیسے کہ وہ ایک سانپ ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر مڑے اور پیچھے پلٹ کر بھی نہ دیکھا (ہم نے آواز دی) اے موسیٰ خوف نہ کرو۔ میں وہ ہوں کہ میرے حضور پیغمبر خوف نہیں کرتے۔
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو تو وہ کسی بیماری کے بغیر چمکتا ہوا نکلے گا (یہ دو معجزے ہیں) ان نو معجزات میں سے جنہیں لے کر آپ نے فرعون اور اس کی قوم کے پاس جانا ہے۔ وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں۔
اور ان لوگوں نے ظلم و تکبر کی راہ سے ان (معجزات) کا انکار کر دیا۔ حالانکہ ان کے نفوس (دلوں) کو ان کا یقین تھا۔ اب دیکھو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا؟
اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو (خاص) علم عطا فرمایا۔ اور ان دونوں نے کہا کہ ہر قِسم کی تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مؤمن بندوں پر فضیلت عطا کی ہے۔
اور سلیمان داؤد کے وارث ہوئے اور کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی کی تعلیم دی گئی ہے اور ہمیں ہر قسم کی چیزیں عطا کی گئی ہیں۔ بےشک یہ (اللہ کا) کھلا ہوا فضل و کرم ہے۔
یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں کچل ڈالے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔
وہ (سلیمان) اس کی بات پر مسکرا کر ہنس پڑے۔ اور کہا اے میرے پروردگار! مجھے ہمیشہ توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکریہ ادا کر سکوں جن سے تو نے مجھے اور میرے والدین کو نوازا ہے اور ایسا نیک عمل کروں جسے تو پسند کرے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل کر۔
پس کچھ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ہد ہد نے آکر کہا کہ میں نے وہ بات معلوم کی ہے جو آپ کو معلوم نہیں ہے۔ اور میں (ملک) سبا سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں۔
میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے عملوں کو ان کی نظر میں خوشنما بنا دیا ہے۔ پس اس نے انہیں اصل (سیدھے) راستہ سے ہٹا دیا ہے۔ سو وہ ہدایت نہیں پاتے۔
چنانچہ ملکہ نے کہا: اے سردارانِ قوم! تم مجھے میرے اس معاملہ میں رائے دو (کیونکہ) میں کبھی کسی معاملہ کا کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم لوگ میرے پاس موجود نہ ہو۔
سو جب وہ فرستادہ (یا ملکہ کا سفیر) سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے کہا کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ تو اللہ نے مجھے جو کچھ دے رکھا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے البتہ تم ہی اپنے ہدیہ پر خوش ہو سکتے ہو۔
(اے سفیر) تو ان لوگوں کے پاس واپس لوٹ جا (اور ان کو بتا کہ) ہم ان کے پاس ایسے لشکر لے کر آرہے ہیں جن کے مقابلہ کی ان میں تاب نہ ہوگی اور ہم ان کو وہاں سے اس طرح ذلیل کرکے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو چکے ہوں گے۔
جنات میں سے ایک شریر و چالاک جن نے کہا کہ میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں۔ بےشک میں اس کی طاقت رکھتا ہوں (اور میں) امانت دار بھی ہوں۔
اور اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ جھپکے پھر جب سلیمان نے اسے اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے فائدہ کیلئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو وہ (اپنا نقصان کرتا ہے) میرا پروردگار بے نیاز اور کریم ہے۔
الغرض جب ملکہ آئی تو اس سے کہا گیا کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟ اس نے کہا یہ تو گویا وہی ہے اور ہمیں تو پہلے ہی سے حقیقت معلوم ہوگئی تھی۔ اور ہم تو مسلمان (مطیع و فرمانبردار) ہو چکے ہیں۔
اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو۔ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو (بلوریں فرش کو گہرا) پانی خیال کیا اور (گزرنے کیلئے اس طرح پائیچے اٹھائے کہ) اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں۔ آپ نے کہا یہ (پانی نہیں ہے بلکہ) شیشوں سے مرصع محل ہے (اور بلوریں فرش ہے) ملکہ نے کہا اے میرے پروردگار! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔
اور بےشک ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو رسول بنا کر (اس پیغام کے ساتھ) بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ تو وہ دو فریق (مؤمن و کافر) ہوگئے جو آپس میں جھگڑنے لگے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تو تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو برا شگون سمجھتے ہیں آپ (ع) نے کہا تمہاری بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے بلکہ تم وہ لوگ ہو جو آزمائے جا رہے ہو۔
انہوں نے کہا کہ آپس میں خدا کی قسم کھا کر عہد کرو کہ ہم رات کے وقت صالح اور اس کے گھر والوں کو ہلاک کر دیں گے اور پھر ان کے وارث سے کہیں گے کہ ہم ان کے گھر والوں کی ہلاکت کے موقع پر موجود ہی نہیں تھے اور ہم بالکل سچے ہیں۔
آپ کہئے! ہر قِسم کی تعریف اللہ کیلئے ہے اور اس کے ان بندوں پر سلام ہو جنہیں اس نے منتخب کیا ہے (ان سے پوچھو) کیا اللہ بہتر ہے یا وہ (معبود) جنہیں وہ (اللہ کا) شریک ٹھہراتے ہیں؟
(ان مشرکین سے پوچھو) بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا؟ اور تمہارے لئے آسمان سے پانی اتارا؟ پھر ہم نے اس (پانی) سے خوش منظر (بارونق) باغات اگائے۔ ان درختوں کا اگانا تمہارے بس میں نہیں تھا۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے؟ بلکہ یہ (راہِ حق سے) انحراف کرنے والے لوگ ہیں۔
بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو قرارگاہ بنایا؟ اور اس کے درمیان نہریں (ندیاں) جاری کیں اور اس کیلئے بھاری پہاڑ بنائے اور دو دریاؤں کے درمیان پردہ حائل کر دیا۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الہ ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
کون ہے جو مضطر و بے قرار کی دعا و پکار کو قبول کرتا ہے۔ جب وہ اسے پکارتا ہے؟ اور اس کی تکلیف و مصیبت کو دور کر دیتا ہے؟ اور تمہیں زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الہ ہے؟ نہیں - بلکہ یہ لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
جو خشکی اور تری کی تاریکیوں میں تمہاری راہنمائی کرتا ہے۔ اور اپنی (باران) رحمت سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الہ ہے؟ اللہ برتر و بالا ہے ان چیزوں سے جنہیں وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
وہ کون ہے جو خلقت کی ابتداء کرتا ہے اور پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور کون ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے روزی دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الہ ہے؟ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ۔
اور نہ ہی آپ (دل کے) اندھوں کو ان کی گمراہی سے (ہٹا کر) راستہ دکھا سکتے ہیں۔ آپ تو صرف انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ بس یہی لوگ ماننے والے ہیں۔
اور جب ان لوگوں پر وعدہ پورا ہونے کو ہوگا تو ہم زمین سے چلنے پھرنے والا نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا۔ (اس بناء پر) کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔
اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایسا گروہ محشور (جمع) کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتا تھا۔ پھر اس کو روک کر جماعت بندی کی جائے گی۔
یہاں تک کہ جب وہ (سب) آجائیں گے تو اللہ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میری آیتوں کو اس حالت میں جھٹلایا تھا کہ تم نے ان کا علمی احاطہ بھی نہ کیا تھا؟ یا وہ کیا تھا جو تم کیا کرتے تھے؟
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات (تاریک) اس لئے بنائی کہ وہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن اس لئے بنایا (تاکہ اس میں کام کریں) بےشک اس میں ایمان لانے والوں کیلئے (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں۔
اور جس دن صور پھونکا جائے گا۔ تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے سوائے ان کے جن کو خدا (بچانا) چاہے گا اور سب ذلت وعاجزی کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔
(اس وقت) تم پہاڑوں کو دیکھوگے تو خیال کروگے کہ وہ ساکن و برقرار ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی مانند رواں دواں ہوں گے۔ یہ خدا کی کاریگری ہے جس نے ہر شئے کو محکم و پائیدار بنایا ہے۔ بیشک وہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو ان کو اوندھے منہ آتش (دوزخ) میں پھینک دیا جائے گا۔ کیا تمہیں تمہارے عمل کے علاوہ کوئی بدلہ مل سکتا ہے؟ (جیسا کروگے ویسا بھروگے)۔
اور یہ کہ قرآن پڑھ کر سناؤں سو اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے لئے ہدایت اختیار کرے گا۔ اور جو کوئی گمراہی اختیار کرے گا تو آپ کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ہوں۔
اور آپ کہہ دیجئے! کہ سب تعریف اللہ کیلئے ہے وہ عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اور تم انہیں پہچان لوگے اور تمہارا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔