ان کے دل بالکل غافل ہیں اور یہ ظالم چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص (رسول) اس کے سوا کیا ہے؟ تمہاری ہی طرح کا ایک بشر ہے کیا تم آنکھیں دیکھتے ہوئے (اور سوجھ بوجھ رکھتے ہوئے) جادو (کی بات) سنتے جاؤگے؟
بلکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) خواب ہائے پریشان ہیں (نہیں) بلکہ یہ اس نے خود گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہ تو ایک شاعر ہے (اور اگر ایسا نہیں ہے) تو پھر ہمارے پاس کوئی معجزہ لائے جس طرح پہلے رسول (معجزات کے ساتھ) بھیجے گئے تھے۔
بلکہ ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا بھیجا نکال دیتی ہے (سر کچل دیتی ہے) پھر یکایک باطل مٹ جاتا ہے۔ افسوس ہے تم پر ان باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو۔
کیا ان لوگوں نے اللہ کے علاوہ اور خدا بنائے ہیں؟ کہئے کہ اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (قرآن) میرے ساتھ والوں کی (کتاب) ہے اور مجھ سے پہلے والوں کی (کتابیں بھی) ہیں (ان سے کوئی بات میرے دعویٰ کے خلاف نکال کر لاؤ) بلکہ اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے (اس لئے) اس سے روگردانی کرتے ہیں۔
اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ کسی کی شفاعت نہیں کرتے سوائے اس کے جس سے خدا راضی ہو۔ اور وہ اس کے خوف و خشیہ سے لرزتے رہتے ہیں۔
کیا کافر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ آسمان اور زمین پہلے آپس میں ملے ہوئے تھے پھر ہم نے دونوں کو جدا کیا۔ اور ہم نے (پہلے) ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے؟
اور ہم نے زمین میں پہاڑ قرار دیئے تاکہ وہ لوگوں کو لے کر ڈھلک نہ جائے اور ہم نے ان (پہاڑوں) میں کشادہ راستے بنائے تاکہ وہ راہ پائیں (اور منزل مقصود تک پہنچ جائیں)۔
اور (اے رسول(ص)) جب کافر آپ کو دیکھتے ہیں تو بس وہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کیا یہی وہ شخص ہے جو (برائی سے) تمہارے خداؤں کا ذکر کرتا ہے؟ حالانکہ وہ خود خدائے رحمن کے ذکر کے منکر ہیں۔
(اے رسول(ص)) کہہ دیجئے! کون ہے جو رات میں یا دن میں خدائے رحمن (کے عذاب) سے تمہاری حفاظت کر سکتا ہے؟ بلکہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے ذکر سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
کیا ہمارے علاوہ ان کے ایسے خدا ہیں جو ان کی حفاظت کر سکیں؟ وہ (خود ساختہ) خدا تو خود اپنی مدد نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہماری طرف سے ان کو پناہ دی جائے گی (اور نہ تائید کی جائے گی)۔
بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے آباء و اجداد کو (زندگی کا) سر و سامان دیا یہاں تک کہ ان کی لمبی لمبی عمریں گزر گئیں (عرصہ دراز گزر گیا) کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے اطراف سے برابر گھٹاتے چلے آرہے ہیں تو کیا وہ غالب آسکتے ہیں؟
ہم قیامت کے دن صحیح تولنے والے میزان (ترازو) قائم کر دیں گے۔ پس کسی شخص پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی (عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو ہم اسے (وزن میں) لے آئیں گے اور حساب لینے والے ہم ہی کافی ہیں۔
آپ نے کہا (دل لگی نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور میں اس بات کے گواہوں میں سے ایک گواہ ہوں۔
اور ہم نے انہیں ایسا امام (پیشوا) بنایا جو ہمارے حکم سے (لوگوں کو) ہدایت کرتے تھے اور ہم نے انہیں نیک کاموں کے کرنے، نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کی وحی کی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔
اور داؤد (ع) اور سلیمان (ع) (کا تذکرہ کیجئے) جب وہ کھیت کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے جب ایک گروہ کی بکریاں رات کے وقت اس میں گھس گئی تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
اور ہم نے اس کا فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا تھا اور ہم نے ہر ایک کو حکمت اور علم عطا کیا تھا اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کر دیا تھا جو ان کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے اور (یہ کام) کرنے والے ہم ہی تھے۔
اور ہم نے انہیں تمہارے فائدہ کیلئے زرہ بنانے کی صنعت سکھائی تھی تاکہ وہ تمہیں تمہاری لڑائی میں ایک دوسرے کی زد سے بچائے۔ کیا تم اس (احسان) کے شکرگزار ہو؟
اور ہم نے تیز و تند ہوا کو سلیمان کیلئے مسخر کر دیا تھا جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت قرار دی ہے اور ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے۔
اور ہم نے کچھ شیطانوں (جنات) کو ان کا تابع بنا دیا تھا جو ان کے لئے غوطہ زنی کرتے تھے۔ اور اس کے علاوہ اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ہی ان کے نگہبان تھے۔
ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کر دی اور اپنی خاص رحمت سے ہم نے ان کو ان کے اہل و عیال عطا کئے اور ان کے برابر اور بھی اور اس لئے کہ یہ عبادت گزاروں کیلئے یادگار ہے۔
اور ذوالنون (مچھلی والے) کا (ذکر کیجئے) جب وہ خشمناک ہوکر چلے گئے اور وہ سمجھے کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے۔ پھر انہوں نے اندھیروں میں سے پکارا۔ تیرے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ پاک ہے تیری ذات بےشک میں زیاں کاروں میں سے ہوں۔
ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں یحییٰ (جیسا بیٹا) عطا کیا اور ان کی بیوی کو ان کیلئے تندرست کر دیا۔ یہ لوگ نیک کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہم کو شوق و خوف (اور امید و بیم) کے ساتھ پکارتے تھے اور وہ ہمارے لئے (عجز و نیاز سے) جھکے ہوئے تھے۔
اور اس خاتون (کا ذکر کیجئے) جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی (خاص) روح پھونک دی۔ اور انہیں اور ان کے بیٹے (عیسیٰ) کو دنیا جہان والوں کیلئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیا۔
اور (جب) اللہ کا سچا وعدہ (قیامت کا) قریب آجائے گا تو ایک دم کافروں کی آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی (اور کہیں گے) ہائے افسوس! ہم اس سے غفلت میں رہے بلکہ ہم ظالم تھے۔
جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح طومار میں خطوط لپیٹے جاتے ہیں جس طرح ہم نے پہلے تخلیق کی ابتداء کی تھی اسی طرح ہم اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے یقیناً ہم اسے (پورا) کرکے رہیں گے۔
پس اگر وہ اس سے روگردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے! کہ میں نے برابر آپ کو خبردار کر دیا ہے اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا دور؟
(آخرکار رسول(ص) نے) کہا اے میرے پروردگار! تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دے۔ (اے لوگو) ہمارا پروردگار وہی خدائے رحمن ہے جس سے ان باتوں کے خلاف مدد مانگی جاتی ہے جو تم بنا رہے ہو۔