کیا یہ بات لوگوں کے لئے تعجب کا باعث ہے کہ ہم نے خود انہی میں سے ایک آدمی پر وحی بھیجی کہ (بے ایمان اور بدکردار لوگوں کو) ڈراؤ۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو۔ کہ ان کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں اچھا مقام و مرتبہ ہے (لیکن) کافروں نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے۔
بے شک تمہارا پروردگار اللہ ہے۔ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے۔ پھر عرش پر غالب ہوا وہی (کائنات کے) ہر کام کی تدبیر اور اس کا بندوبست کرتا ہے اس کی بارگاہ میں کوئی سفارشی نہیں ہو سکتا مگر اس کی اجازت کے بعد۔ یہ ہے اللہ تمہارا پروردگار پس اسی کی عبادت کرو کیا تم غور و فکر نہیں کرتے (اور نصیحت قبول نہیں کرتے)۔
تم سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے بے شک وہی مخلوق کی پیدائش کی ابتداء کرتا ہے پھر وہی دوبارہ اسے زندہ کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں انہیں انصاف کے ساتھ جزا دے اور جنہوں نے کفر کیا انہیں ان کے کفر کی پاداش میں کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
وہ وہی ہے جس نے سورج کو چمکدار اور چاند کو نور (روشن) بنایا اور پھر چاند کے لئے مختلف منزلیں قرار دیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور دوسرے حساب معلوم کر سکو اللہ نے یہ سب کچھ حق و حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو سمجھنا اور جاننا چاہیں اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔
بے شک رات اور دن کی ادل بدل اور الٹ پھیر میں اور ان چیزوں میں جو خدا نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں پرہیزگاروں کے لیے (خدا کی قدرت و حکمت کی) نشانیاں ہیں۔
بے شک جو لوگ (مرنے کے بعد) ہماری بارگاہ میں حاضری کی امید نہیں رکھتے اور صرف دنیوی زندگی میں مگن ہیں اور اس پر مطمئن ہیں اور جو لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ ان کا پروردگار ان کے ایمان کی بدولت انہیں اس منزل مقصود تک پہنچائے گا۔ یعنی وہ نعمتِ الٰہی کے ان باغوں میں ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
وہاں ان کی دعا و صدا یہ ہوگی۔ اے اللہ! پاک ہے تیری ذات اور ان کی صاحب سلامت سلام سے ہوگی اور ان کی آخری دعا و پکار یہ ہوگی کہ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔
اگر خدا لوگوں کو نقصان پہنچانے میں اس طرح جلدی کرتا جس طرح یہ لوگ اپنی بھلائی کے لئے جلدی کرتے ہیں یعنی اگر ہر برائی کا برا نتیجہ فوراً سامنے آجاتا تو ان کی مدت (عمر) کبھی کی پوری ہو چکی ہوتی مگر ہمارے قانون (سزا میں ڈھیل ہے) اس لئے ہم تو ان لوگوں کو بھی اپنی سرکشیوں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں جو مرنے کے بعد ہماری بارگاہ میں حضوری کی امید نہیں رکھتے۔
جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کروٹ کے بل لیٹے یا بیٹھے یا کھڑے ہوئے (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے اور جب ہم اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو وہ اس طرح (منہ موڑ کے) چل دیتا ہے جیسے اس نے کسی تکلیف میں جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا اسی طرح حد سے گزرنے والوں کے لیے ان کے وہ عمل خوشنما بنا دیئے گئے ہیں جو وہ کرتے رہے ہیں۔
اور بالیقین ہم تم سے پہلے (بہت سی) نسلوں کو ہلاک کر چکے ہیں جب انہوں نے ظلم کی راہ و روش اختیار کی۔ اور ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں (معجزے) لے آئے مگر وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے ہم اسی طرح مجرم لوگوں کو سزا دیتے ہیں۔
اور جب انہیں ہماری آیاتِ بینات (واضح آیتیں) پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جو لوگ مرنے کے بعد ہماری بارگاہ میں حاضری کی توقع نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں رد و بدل کر دو۔ آپ کہہ دیجیے! کہ مجھے یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے اس میں کچھ رد و بدل کر دوں! میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
(اے رسول(ص)) کہہ دیجیے! اگر خدا چاہتا تو میں تمہیں قرآن پڑھ کر نہ سناتا اور نہ ہی وہ تمہیں اس پر مطلع فرماتا۔ آخر میں تو اس سے پہلے تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔
یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ فائدہ اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں (اے رسول(ص)) تم کہو۔ کیا تم اللہ کو اس چیز کی اطلاع دیتے ہو جو خود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہے اور نہ زمین میں۔ پاک ہے اس کی ذات اور بلند و بالا ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔
اور (ابتداء میں) سب انسان ایک ہی امت تھے (دینِ فطرت پر تھے) پھر آپس میں اختلاف کیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک طئے شدہ بات نہ ہوتی (کہ اعمال کی جزا و سزا آخرت میں ہوگی) تو جن باتوں میں یہ لوگ باہم اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ کر دیا گیا ہوتا۔
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر(ص)) پر ان کے پروردگار کی طرف سے (ان کی مطلوبہ) کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوتی؟ کہہ دیجیئے کہ غیب کا علم اللہ سے مخصوص ہے سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
اور جب ہم لوگوں کو تکلیف اور دکھ درد کے بعد (اپنی) رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ فوراً ہماری آیتوں میں چال بازی و حیلہ سازی کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دیجیئے کہ اللہ تدبیر و ترکیب میں (تم سے) زیادہ تیز ہے بے شک ہمارے فرستادہ (فرشتے) تمہاری سب چالبازیاں اور مکاریاں برابر لکھتے جا رہے ہیں۔
وہ (خدا) وہی ہے جو تمہیں خشکی و تری میں سیر و سفر کراتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور وہ موافق ہوا کے مطابق مسافروں کو لے کر چلتی ہیں اور وہ خوش و خرم ہوتے ہیں تو پھر اچانک بادِ مخالف کا تھپیڑ آجاتا ہے اور ہر طرف سے موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب ہم بالکل گھر گئے ہیں (اور زندہ بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی) تو اس وقت دین کو اللہ کے لئے خالص کرکے یعنی بڑے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں کہ (یا اللہ) اگر تو ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دے دے تو ہم ضرور تیرے شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔
اور جب اللہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو (اپنا سب عہد و پیمان بھول کر) زمین میں ناحق بغاوت اور سرکشی کرنے لگتے ہیں اے لوگو! تمہاری اس بغاوت کا وِزر و وبال تو خود تمہاری ہی جانوں پر پڑ رہا ہے یہ (چند روزہ) زندگی کے مزے ہیں (سو لوٹ لو) پھر تمہاری بازگشت ہماری ہی طرف ہے اس وقت ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو؟
دنیاوی زندگی کی مثال تو اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان سے برسایا اور زمین سے وہ نباتات پیدا ہوئیں جن کو انسان اور مویشی سب کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین اپنی زیب و زینت کو لے چکی اور فصل کے سبزہ زار سے آراستہ ہوگئی۔ اور اس کے مالک سمجھے کہ انہیں اس (فصل) پر قابو حاصل ہے (جب چاہیں گے کاٹیں گے) تو ایک دم رات یا دن کو ہمارا حکم آگیا۔ تو ہم نے اسے اس طرح بیخ و بن سے کاٹ کے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ ہم غور و فکر کرنے والوں کیلئے اسی طرح کھول کھول کر اپنی آیتیں پیش کرتے ہیں۔
جن لوگوں نے (دنیا میں) بھلائی کی ہوگی ان کیلئے (آخرت میں) بھلائی ہوگی اور اس سے بھی کچھ زیادہ ان کے چہروں پر نہ غبار چھائے گا اور نہ ذلت و رسوائی (نمایاں ہوگی) یہی لوگ جنتی ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کی سزا بھی ویسی ہی برائی ہے اور ان پر ذلت و خواری چھا جائے گی ان کو اللہ (کے قانون مکافاتِ عمل) سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا (ان کے چہرے سیاہ ہوں گے کہ) گویا ان کے چہروں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے یہی لوگ دوزخی ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
جس دن ہم سب کو (اپنے حضور) محشور (اکھٹا) کریں گے پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا تھا کہیں گے کہ تم اور جو تمہارے بنائے ہوئے شریک ہیں اپنی جگہ پر ٹھہر جاؤ۔ پھر ہم ان میں امتیاز پیدا کر دیں گے (الگ الگ کر دیں گے) (اس وقت) ان کے خود ساختہ شریک کہیں گے کہ (اے مشرکو) تم ہماری عبادت تو نہیں کیا کرتے تھے۔
اس موقع پر ہر شخص اسے جانچ لے گا جو کچھ اس نے آگے بھیجا ہے (کہ اس کا نتیجہ کیا ہے؟) اور سب اللہ کی بارگاہ میں لوٹائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے اور جو (شریک) انہوں نے گھڑ رکھے تھے وہ سب غائب ہو جائیں گے (اور ان کے کچھ کام نہ آئیں گے)
اے پیغمبر) ان لوگوں سے کہو (پوچھو) وہ کون ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے روزی دیتا ہے؟ وہ کون ہے جو سمع و بصر (سننے اور دیکھنے کی طاقت) کا مالک ہے؟ وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے؟ اور وہ کون ہے جو کائنات کا انتظام کر رہا ہے؟ اس سوال پر وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ پس تم کہو (کہ اگر حقیقت حال یہی ہے) تو تم کیوں نہیں ڈرتے۔
(اے پیغمبر(ص)) آپ کہیے۔ تمہارے ساختہ پرداختہ شریکوں میں سے کوئی ہے جو تخلیقِ کائنات کا آغاز بھی کرے اور (فنا کے بعد) اسے دوبارہ زندہ کرے؟ کہیے! اللہ وہ ہے جو کائنات کو پہلے پیدا بھی کرتا ہے اور پھر اسے دوبارہ زندہ بھی کرے گا تم کدھر الٹے جا رہے ہو؟
(اے پیغمبر(ص)) ان سے کہیے (پوچھئے) کہ تمہارے بنائے ہوئے (خدا کے) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہو؟ کہئے! وہ اللہ ہی ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے پھر (بتاؤ) جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے وہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود اس وقت تک راہ نہیں پا سکتا جب تک اسے راہ نہ دکھائی جائے؟ تمہیں کیا ہوگیا تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟
لوگوں میں اکثر ایسے ہیں جو صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ گمان حق کی پہچان اور اس تک رسائی حاصل کرنے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا (اور نہ ہی یہ حق و یقین سے بے نیاز کرتا ہے) بے شک اللہ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ لوگ کر رہے ہیں۔
اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے گھڑ لیا جائے بلکہ یہ تو تمام سابقہ کتابوں اور وحیوں کی تصدیق ہے اور الکتاب کی تفصیل ہے (یعنی اس میں آسمانی کتابوں کی تعلیم کی تفصیل ہے) اس میں کچھ شک و شبہ نہیں ہے کہ یہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔
کیا یہ (کافر) لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص (پیغمبرِ اسلام(ص)) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ آپ کہیے! اگر تم اپنے اس الزام میں سچے ہو تو تم اللہ کے سوا اپنی مدد کے لئے جس جس کو بلا سکتے ہو بلا لو اور پھر قرآن کی مانند ایک ہی سورہ لے آؤ۔
بلکہ یہ لوگ اس چیز کو جھٹلا دیتے ہیں جس کا علمی احاطہ نہیں کر سکتے اور جس کی تاویل ابھی ان کے سامنے نہیں آئی ہے اسی طرح ان لوگوں نے بھی (حقائق کو) جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے تو دیکھو کہ ظلم کرنے والوں کا کیا انجام ہوا؟
اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو فرما دیجیے! میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا تمہارے لئے جو کچھ میں کرتا ہوں اس سے تم بری الذمہ ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں۔
اور (اے رسول) ان لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ کی باتوں کی طرف کان لگاتے ہیں (حالانکہ سنتے نہیں ہیں) تو کیا آپ بہروں کو سنائیں گے اگرچہ وہ عقل سے کام نہ لیتے ہوں؟
جس دن اللہ لوگوں کو اپنی بارگاہ میں جمع کرے گا (اس دن انہیں ایسا معلوم ہوگا کہ) جیسے دن کی ایک گھڑی آپس میں جان پہچان کے لئے ٹھہرے ہوں۔ بے شک وہ لوگ گھاٹے میں ہیں جنہوں نے (مرنے کے بعد) خدا کی بارگاہ میں حضوری کو جھٹلایا اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے۔
اور (اے رسول(ص)) خواہ ہم آپ کو ابھی بعض وہ باتیں (برے اعمال کے نتائج) دکھا دیں جن کا ان (منکرین) سے وعدہ کیا ہے یا اس سے پہلے آپ کو (دنیا سے) اٹھا لیں بہرحال انہیں لوٹ کر آنا تو ہماری ہی طرف ہے پھر اللہ گواہ ہے اس پر جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔
اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہوتا ہے تو جب ان کا رسول ان کے پاس آجاتا ہے تو پورے انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔
(اے رسول) کہہ دیجیے! (یہ معاملہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے) میں تو خود اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ مگر جو اللہ چاہے (وہی ہوتا ہے) ہر امت (قوم) کیلئے (مہلت کی) ایک مدت ہوتی ہے جب وہ مدت پوری ہو جاتی ہے (اور مقررہ وقت آجاتا ہے) تو پھر ایک گھڑی کی بھی نہ تاخیر ہو سکتی ہے اور نہ تقدیم۔
(اے رسول) ان لوگوں سے کہیے کیا تم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ اگر اس کا عذاب (اچانک) رات کے وقت تم پر آجائے یا دن دہاڑے (تو تم کیا کروگے؟) آخر وہ کون سی چیز ہے جس کی مجرم جلدی کر رہے ہیں؟
کیا جب وہ (عذاب) واقع ہو جائے گا تو تب اس پر تم ایمان لاؤگے؟ (اس پر یقین کروگے؟) (اس وقت تو کہا جائے گا) اب؟ (اس پر یقین کرکے اس سے بچنا چاہتے ہو؟) حالانکہ تم ہی اس کی جلدی کر رہے تھے۔
جو کچھ روئے زمین پر موجود ہے اگر وہ ہر ظالم شخص کے قبضہ میں آجائے تو (وہ عذاب اس قدر سخت ہے) کہ وہ یہ سب کچھ بطور فدیہ دے دے۔ جب یہ لوگ عذابِ الٰہی کو دیکھیں گے تو ندامت و پشیمانی کو دل میں چھپائیں گے (اور اندر ہی اندر پچھتائیں گے) لیکن پورے انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (قرآن کی شکل میں) پند و موعظہ، دلوں کی بیماریوں کی شفا اور اہلِ ایمان کے لئے ہدایت و رحمت کا مجموعہ آگیا ہے۔
(اے رسول) کہیے کہ (یہ سب کچھ) خدا کے خاص فضل اور اس کی خصوصی رحمت کا نتیجہ ہے اس لئے چاہیے کہ لوگ خوشی منائیں یہ چیز اس دولتِ دنیا سے بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں۔
(اے رسول(ص)) کہیے! لوگو ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم نے غور کیا ہے کہ خدا نے تمہارے لئے جو رزق اتارا ہے تو تم نے خود (اپنی خواہشِ نفس سے) کسی کو حرام اور کسی کو حلال قرار دے دیا ہے ان سے پوچھئے! کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے یا تم اللہ پر بہتان باندھ رہے ہو؟
جو لوگ خدا پر افترا پردازی کرتے ہیں ان کا قیامت کے دن کے بارے میں کیا گمان ہے؟ بے شک اللہ لوگوں پر فضل و کرم کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے۔
(اے رسول(ص)) آپ جس حال میں بھی ہوں اور قرآن میں سے جو کچھ بھی پڑھ کر سنائیں اور (اے لوگو) تم بھی جو کوئی کام کرتے ہو ہم ضرور تم پر ناظر و نگران ہوتے ہیں جب تم اس (کام) میں مشغول و منہمک ہوتے ہو۔ اور آپ کے پروردگار سے کوئی ذرہ بھر چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ اور کوئی چیز خواہ ذرہ سے چھوٹی ہو یا اس سے بڑی مگر یہ کہ وہ ایک واضح کتاب میں موجود ہے۔
اور (اے رسول) ان (کافروں) کی (معاندانہ) باتیں آپ کو غمزدہ نہ کریں۔ یقینا تمام کی تمام عزت اللہ کے لئے ہے (وہ جسے چاہے عزت و ذلت دے) وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
آگاہ ہو جاؤ وہ تمام ہستیاں جو آسمان میں ہیں اور وہ سب جو زمین میں ہیں اللہ ہی کے مملوک اور اسی کے تابعِ فرمان ہیں۔ اور جو (مشرک) لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کاہے کی پیروی کر رہے ہیں؟ وہ محض اپنے گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور صرف اپنی اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔
وہ (خدا) وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور دیکھنے کے لئے دن کو روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) بے شک اس میں ان لوگوں کیلئے (قدرتِ خدا کی) نشانیاں ہیں جو (کلامِ حق) سنتے ہیں۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنا کوئی بیٹا بنایا ہے حالانکہ وہ پاک و بے نیاز ہے اور اس کیلئے زمین و آسمان کی ساری کائنات ہے۔ تمہارے پاس تو تمہاری بات کی کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔ کیا تم لوگ خدا پر وہ الزام لگاتے ہو جس کا تمہیں علم بھی نہیں ہے۔
اور (اے رسول(ص)) انہیں (کفار کو) نوح کا حال سنائیں جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم! اگر (تمہارے درمیان) میرا قیام کرنا اور آیاتِ الٰہیہ کا یاد دلانا (اور ان کے ساتھ پند و نصیحت کرنا) شاق گزرتا ہے تو میرا بھروسہ صرف اللہ پر ہے تو تم (میرے خلاف) اپنے خود ساختہ شریکوں کو بھی ساتھ ملا کر کوئی متفقہ فیصلہ کرلو اور (پھر خوب سوچ سمجھ لو تاکہ) تمہارا فیصلہ تم پر پوشیدہ نہ رہے اور تمہیں اس میں کوئی تذبذب باقی نہ رہے پھر میرے ساتھ جو کرنا ہے کر گزرو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔
اب اگر (اس کے باوجود) تم روگردانی کرتے ہو (تو تمہارا ہی نقصان ہے میرا کیا نقصان ہے) میں نے تم سے کوئی اجر تو نہیں مانگا۔ میرا اجر تو اللہ کے ذمے ہے مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کے فرمانبردار بندوں سے ہو کر رہوں۔
(بایں ہمہ) ان لوگوں نے انہیں جھٹلایا پس ہم نے انہیں اور جو کشتی میں ان کے ساتھ سوار تھے نجات دی اور انہیں (غرق ہونے والوں کا) جانشین بنایا اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان سب کو غرق کر دیا تو دیکھو جن کو متنبہ کیا گیا تھا اور ڈرایا گیا تھا (مگر وہ نہ مانے) ان کا کیا انجام ہوا؟
پھر ہم نے ان (نوح(ع)) کے بعد متعدد رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں (معجزے) لے کر آئے اس پر بھی وہ تیار نہ تھے کہ جس چیز کو وہ پہلے جھٹلا چکے ہیں (اب معجزے دیکھ کر) اس پر ایمان لائیں۔ ہم یونہی ظلم و تعدی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔
پھر ہم نے ان (رسولوں) کے بعد موسیٰ (ع)و ہارون (ع)کو اپنی نشانیوں (معجزوں) کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ (عادی) مجرم تھے۔
انہوں نے (جواب میں) کہا کہ کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہمیں اس راہ سے ہٹا دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔ اور اس سر زمین میں تم دونوں (بھائیوں) کی بڑائی (سرداری) قائم ہو جائے اور ہم تم دونوں کی بات تسلیم کرنے والے نہیں ہے۔
جب وہ (رسیاں وغیرہ) پھینک چکے۔ تو موسیٰ نے کہا جو کچھ تم لائے ہو یہ جادو ہے (نہ وہ جو میں لایا ہوں) یقینا اللہ اسے بھی ملیامیٹ کر دے گا کیونکہ قانونِ قدرت ہے کہ اللہ مفسدین کے کام کو بننے نہیں دیتا۔
پس موسیٰ پر ان کی قوم کے چند نوجوانوں کے ایک گروہ کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لایا اور وہ (ایمان لانے والے) بھی فرعون اور اپنی قوم کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے ایمان لائے۔ کہ کہیں وہ انہیں آزمائش (اور مصیبت) میں نہ ڈال دے اور بے شک فرعون بڑا سرکش (بادشاہ) تھا اور حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا۔
انہوں نے (جواب میں) کہا ہم اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں (اور دعا کرتے ہیں) اے ہمارے پروردگار ہمیں ظالم لوگوں کیلئے آزمائش کا موجب نہ بنا (ان کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا)۔
اور ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی (ہارون) کی طرف وحی کی کہ مصر میں اپنی قوم کے لئے چند گھر مہیا کرو (بناؤ) اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنائیں (یا اپنے گھروں کو ہی قبلہ بنائیں) اور نماز قائم کریں اور (اے موسیٰ اہلِ ایمان کو) کامیابی کی بشات دیں۔
اور موسیٰ نے (دعا مانگتے ہوئے) کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیاوی زندگی میں زیب و زینت (کی چیزوں) اور بہت سے مال و دولت سے نوازا ہے۔ اے پروردگار! اس کا نتیجہ اور انجام یہ ہے کہ وہ (تیرے بندوں کو) تیرے راستہ سے بہکاتے ہیں۔ اے ہمارے مالک، ان کے مالوں کو نابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے تاکہ جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں (اور اس وقت ایمان کا لانا سودمند نہ ہوگا)۔
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور ظلم و تعدی سے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ جب وہ (فرعون) (دریا میں) غرق ہونے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں (مانتا ہوں) کہ اس ہستی کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں (فرمانبرداروں) میں سے ہوں۔
پس آج ہم صرف تیرے بدن (لاش) کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد آنے والوں کے لئے (قدرت و عبرت کی) ایک نشانی بن جائے (اگرچہ) لوگوں کی اکثریت ہماری نشانیوں سے غافل ہی رہتی ہے۔
اور ہم نے (حسب الوعدہ) بنی اسرائیل کو (رہنے کے لئے) بہت اچھا ٹھکانا دیا اور پاکیزہ چیزوں سے ان کی روزی کا انتظام کیا پس جب تک ان کے پاس توراۃ وغیرہ کی شکل میں علم نہیں آگیا تب تک انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا۔ (پھر جان بوجھ کر اختلاف کیا)۔ یقینا آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
اگر (بالفرض) آپ کو اس (قرآن میں) کچھ شک ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تو پھر ان لوگوں (اہل کتاب) سے پوچھ لو جو آپ سے پہلے کتابیں (توراۃ و انجیل وغیرہ) پڑھتے رہتے ہیں۔ بے شک آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کے پاس حق آیا ہے لہٰذا ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔
قومِ یونس کے سوا کیوں کوئی ایسی بستی نہیں ہوئی جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی ہو اور اس کے ایمان نے اسے فائدہ بھی پہنچایا ہو؟ جب وہ (قومِ یونس والے) ایمان لائے تو ہم نے اس دنیاوی زندگی میں ان سے رسوائی والا عذاب ٹال دیا اور ان کو ایک مدت تک زندگی کے سرو سامان سے فائدہ اٹھانے کی مہلت دے دی۔
(اے رسول(ص)) کہیئے۔ (اے لوگو) غور سے دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا (عجائبات قدرت) موجود ہیں (اور کس بات کی گواہی دے رہے ہیں؟) مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو نہ نشانیاں کوئی فائدہ دیتی ہیں اور نہ ڈرانے والوں کی تنبیہیں۔
کیا یہ لوگ ان جیسے (عذاب کے) دنوں کا انتظار کر رہے ہیں جو ان لوگوں پر آئے جو ان سے پہلے تھے (کہ ایسے ہی ان پر بھی آئیں؟) ان سے کہہ دیجیئے کہ پھر تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
کہیے! اے لوگو اگر تمہیں میرے دین (اسلام) کے بارے میں کچھ شک ہے تو (سن لو) میں ان (بتوں) کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روح قبض کرتا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اہلِ ایمان کے زمرہ میں سے ہوں۔
نیز (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ) اللہ کے سوا کسی ایسی ہستی کو نہ پکاریں جو تمہیں نہ فائدہ پہنچا سکے اور نہ نقصان اور اگر ایسا کیا تو پھر ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔
اور اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو اس کے سوا کوئی اس کا دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنا فضل و کرم فرمائے وہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
(اے رسول) کہہ دیجئے! اے لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے حق آچکا ہے پس جو ہدایت حاصل کرے گا تو وہ اپنے فائدہ کے لئے کرے گا اور جو گمراہ ہوگا اس کا نقصان بھی اسی کو ہوگا میں تم پر نگہبان و نگران نہیں ہوں۔
اور (اے رسول) آپ اس وحی کی پیروی کریں جو آپ کی طرف کی جاتی ہے اور (مخالفین کی ایذا رسانیوں پر) صبر کریں یہاں تک کہ اللہ (آپ کے اور ان کے درمیان) فیصلہ کر دے۔ جو فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔