سورة Abasa ( He frowned )

سورة Abasa ( He frowned ) - Urdu Ahmed Raza Khan عدد الآيات 42

تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا
اس پر کہ اس کے پاس وہ نابینا حاضر ہوا
اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ ستھرا ہو
یا نصیحت لے تو اسے نصیحت فائدہ دے،
وہ جو بے پرواہ بنتا ہے
تم اس کے تو پیچھے پڑتے ہو
اور تمہارا کچھ زیاں نہیں اس میں کہ وہ ستھرا نہ ہو
اور وہ جو تمہارے حضور ملکتا (ناز سے دوڑتا ہوا) آتا
اور وہ ڈر رہا ہے
تو اسے چھوڑ کر اور طرف مشغول ہوتے ہو،
یوں نہیں یہ تو سمجھانا ہے
تو جو چاہے اسے یا د کرے
ان صحیفوں میں کہ عزت والے ہیں
ایسوں کے ہاتھ لکھے ہوئے،
جو کرم والے نکوئی والے
پانی کی بوند سے اسے پیدا فرمایا، پھر اسے طرح طرح کے اندازوں پر رکھا
پھر اسے موت دی پھر قبر میں رکھوایا
پھر جب چاہا اسے باہر نکالا
کوئی نہیں، اس نے اب تک پورا نہ کیا جو اسے حکم ہوا تھا
تو آدمی کو چاہیے اپنے کھانوں کو دیکھے
اور انگور اور چارہ،
اور میوے اور دُوب (گھاس)
تمہارے فائدے کو اور تمہارے چوپایوں کے،
پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ
اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی،
اور جُورو اور بیٹوں سے
ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے
اور کتنے مونہوں پر اس دن گرد پڑی ہوگی،
ان پر سیاہی چڑھ رہی ہے
مشاركة الموضوع