سورة Al-Insan ( Man )

سورة Al-Insan ( Man ) - Urdu Ahmed Raza Khan عدد الآيات 31

بیشک ہم نے آدمی کو کیا ملی ہوئی منی سے کہ وہ اسے جانچیں تو اسے سنتا دیکھتا کردیا
بیشک ہم نے اسے راہ بتائی یا حق مانتا یا ناشکری کرتا
بیشک ہم نے کافروں کے لیے تیار کر رکھی ہیں زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی آگ
بیشک نیک پئیں گے اس جام میں سے جس کی ملونی کافور ہے وہ کافور کیا ایک چشمہ ہے
جس میں سے اللہ کے نہایت خاص بندے پئیں گے اپنے محلوں میں اسے جہاں چاہیں بہا کر لے جائیں گے
اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی پھیلی ہوئی ہے
اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو،
ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتےہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے،
بیشک ہمیں اپنے رب سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت ترش نہایت سخت ہے
تو انہیں اللہ نے اس دن کے شر سے بچالیا اور انہیں تازگی اور شادمانی دی،
اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صلہ میں دیے،
جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے، نہ اس میں دھوپ دیکھیں گے نہ ٹھٹر (سخت سردی)
اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوں گے اور اس کے گچھے جھکا کر نیچے کردیے گئے ہوں گے
اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہوگا جو شیشے کے مثل ہورہے ہوں گے،
کیسے شیشے چاندی کے ساقیوں نے انہیں پورے اندازہ پر رکھا ہوگا
اور اس میں وہ جام پلائے جائیں گے جس کی ملونی ادرک ہوگی
وہ ادرک کیا ہے جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہتے ہیں
اور ان کے آس پاس خدمت میں پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے جب تو انہیں دیکھے تو انہیں سمجھے کہ موتی ہیں بکھیرے ہوئے
اور جب تو ادھر نظر اٹھائے ایک چین دیکھے اور بڑی سلطنت
ان کے بدن پر ہیں کریب کے سبز کپڑے اور قنا ویز کے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے گئے اور انہیں ان کے رب نے ستھری شراب پلائی
ان سے فرمایا جائے گا یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری محنت ٹھکانے لگی
تو اپنے رب کے حکم پر صابر رہو اور ان میں کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات نہ سنو
اور کچھ میں اسے سجدہ کرو اور بڑی رات تک اس کی پاکی بولو
بیشک یہ لوگ پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز رکھتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں
ہم نے انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں ان جیسے اور بدل دیں
اپنی رحمت میں لیتا ہے جسے چاہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
مشاركة الموضوع