سورة Al-Ma'arij (The Ways of Ascent )

سورة Al-Ma'arij (The Ways of Ascent ) - Urdu Ahmed Raza Khan عدد الآيات 44

ایک مانگنے والا وہ عذاب مانگتا ہے،
جو کافروں پر ہونے والا ہے، اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں،
وہ ہوگا اللہ کی طرف سے جو بلندیوں کا مالک ہے
ملائکہ اور جبریل اس کی بارگاہ کی طرف عروج کرتے ہیں وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے
تو تم اچھی طرح صبر کرو،
اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں
جس دن آسمان ہوگا جیسی گلی چاندی،
اور پہاڑ ایسے ہلکے ہوجائیں گے جیسے اون
اور کوئی دوست کسی دوست کی بات نہ پوچھے گا
ہوں گے انہیں دیکھتے ہوئے مجرم آرزو کرے گا، کاش! اس دن کے عذاب سے چھٹنے کے بدلے میں دے دے اپنے بیٹے،
اور اپنی جورو اور اپنا بھائی،
اور اپنا کنبہ جس میں اس کی جگہ ہے،
اور جتنے زمین میں ہیں سب پھر یہ بدلہ دنیا اسے بچالے،
ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی آگ ہے،
کھال اتار لینے والی بلارہی ہے
اس کو جس نے پیٹھ دی اور منہ پھیرا
اور جوڑ کر سینت رکھا (محفوظ کرلیا)
بیشک آدمی بنایا گیا ہے بڑا بے صبرا حریص،
جب اسے برائی پہنچے تو سخت گھبرانے والا،
اور جب بھلائی پہنچے تو روک رکھنے والا
اس کے لیے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے
بیشک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں
اور ہو جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،
مگر اپنی بیبیوں یا اپنے ہاتھ کے مال کنیزوں سے کہ ان پر کچھ ملامت نہیں،
تو جو ان دو کے سوا اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں
اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں
یہ ہیں جن کا باغوں میں اعزاز ہوگا
تو ان کافروں کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں
کیا ان میں ہر شخص یہ طمع کرتا ہے کہ چین کے باغ میں داخل کیا جائے،
ہرگز نہیں، بیشک ہم نے انہیں اس چیز سے بنایا جسے جانتے ہیں
تو مجھے قسم ہے اس کی جو سب پُوربوں سب پچھموں کا مالک ہے کہ ضرور ہم قادر ہیں،
کہ ان سے اچھے بدل دیں اور ہم سے کوئی نکل کر نہیں جاسکتا
تو انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگیوں میں پڑے اور کھیلتے ہوئے یہاں تک کہ اپنے اس دن سے ملیں جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے،
جس دن قبروں سے نکلیں گے جھپٹتے ہوئے گویا وہ نشانیوں کی طرف لپک رہے ہیں
آنکھیں نیچی کیے ہوئے ان پر ذلت سوار، یہ ہے ان کا وہ دن جس کا ان سے وعدہ تھا
مشاركة الموضوع