سورة Al-Haaqqah ( The Inevitable )
سورة Al-Haaqqah ( The Inevitable ) - Urdu Ahmed Raza Khan عدد الآيات 52
اور تم نے کیا جانا کیسی وہ حق ہونے والی
ثمود اور عاد نے اس سخت صدمہ دینے والی کو جھٹلایا،
تو ثمود تو ہلاک کیے گئے حد سے گزری ہوئی چنگھاڑ سے
اور رہے عاد وہ ہلاک کیے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے،
وہ ان پر قوت سے لگادی سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں دیکھو بچھڑے ہوئے گویا وہ کھجور کے ڈھنڈ (سوکھے تنے) ہیں گرے ہوئے،
تو تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو
اور فرعون اور اس سے اگلے اور الٹنے والی بستیاں خطا لائے
تو انہوں نے اپنے رب کے رسولوں کا حکم نہ مانا تو اس نے انہیں بڑھی چڑھی گرفت سے پکڑا،
بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھا ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا
کہ اسے تمہارے لیے یادگار کریں اور اسے محفوظ رکھے وہ کان کہ سن کر محفوظ رکھتا ہو
پھرجب صور پھونک دیا جائے ایک دم،
اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعتا ً چُورا کردیے جائیں،
وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی وہ ہونے والی
اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن اس کا پتلا حال ہوگا
اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے
اس دن تم سب پیش ہو گے کہ تم میں کوئی چھپنے والی جان چھپ نہ سکے گی،
تو وہ جو اپنا نامہٴ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا لو میرے نامہٴ اعمال پڑھو،
مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا
تو وہ من مانتے چین میں ہے،
کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آگے بھیجا
اور وہ جو اپنا نامہٴ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نوشتہ نہ دیا جاتا،
اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے،
ہائے کسی طرح موت ہی قصہ چکا جاتی
میرے کچھ کام نہ آیا میرا مال
اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو
پھر اسے بھڑکتی آگ میں دھنساؤ،
پھر ایسی زنجیر میں جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے اسے پُرو دو
بیشک وہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہ لاتا تھا
اور مسکین کو کھانے دینے کی رغبت نہ دیتا
تو آج یہاں اس کا کوئی دوست نہیں
اور نہ کچھ کھانے کو مگر دوزخیوں کا پیپ،
اسے نہ کھائیں گے مگر خطاکار
تو مجھے قسم ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو،
بیشک یہ قرآن ایک کرم والے رسول سے باتیں ہیں
اور وہ کسی شاعر کی بات نہیں کتنا کم یقین رکھتے ہو
اور نہ کسی کاہن کی بات کتنا کم دھیان کرتے ہو
اس نے اتارا ہے جو سارے جہان کا رب ہے،
اور اگر وہ ہم پر ایک بات بھی بنا کر کہتے
ضرور ہم ان سے بقوت بدلہ لیتے،
پھر ان کی رگِ دل کاٹ دیتے
پھر تم میں کوئی ان کا بچانے والا نہ ہوتا،
اور بیشک یہ قرآن ڈر والوں کو نصیحت ہے،
اور ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم کچھ جھٹلانے والے ہیں،
اور بیشک وہ کافروں پر حسرت ہے
تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کی پاکی بولو