سورة Al-Waqi'ah ( The Event )

سورة Al-Waqi'ah ( The Event ) - Urdu Ahmed Raza Khan عدد الآيات 96

جب ہولے گی وہ ہونے والی
اس وقت اس کے ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی،
کسی کو پست کرنے والی کسی کو بلندی دینے والی
جب زمین کانپے گی تھرتھرا کر
اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے چُورا ہوکر
تو ہوجائیں گے جیسے روزن کی دھوپ میں غبار کے باریک ذرے پھیلے ہوئے
اور جو سبقت لے گئے وہ تو سبقت ہی لے گئے
ان پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے
ان کے گرد لیے پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے
کوزے اور آفتابے اور جام اور آنکھوں کے سامنے بہتی شراب
کہ اس سے نہ انہیں درد سر ہو اور نہ ہوش میں فرق آئے
اور بڑی آنکھ والیاں حوریں
اس میں نہ سنیں گے نہ کوئی بیکار با ت نہ گنہگاری
بے کانٹوں کی بیریوں میں
اور کیلے کے گچھوں میں
اور ہمیشہ کے سائے میں
اور ہمیشہ جاری پانی میں
جو نہ ختم ہوں اور نہ روکے جائیں
اور بلند بچھونوں میں
بیشک ہم نے ان عورتوں کو اچھی اٹھان اٹھایا،
تو انہیں بنایا کنواریاں اپنے شوہر پر پیاریاں،
انہیں پیار دلائیاں ایک عمر والیاں
دہنی طرف والوں کے لیے،
اور پچھلوں میں سے ایک گروہ
اور بائیں طرف والے کیسے بائیں طرف والے
جلتی ہوا اور کھولتے پانی میں،
اور جلتے دھوئیں کی چھاؤں میں
اور کہتے تھے کیا جب ہم مرجائیں اور ہڈیاں ہوجائیں تو کیا ضرور ہم اٹھائے جائیں گے،
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی،
ضرور اکٹھے کیے جائیں گے، ایک جانے ہوئے دن کی میعاد پر
ضرور تھوہر کے پیڑ میں سے کھاؤ گے،
پھر ایسا پیو گے جیسے سخت پیاسے اونٹ پئیں
یہ ان کی مہمانی ہے انصاف کے دن،
ہم نے تمہیں پیدا کیا تو تم کیوں نہیں سچ مانتے
تو بھلا دیکھو تو وہ منی جو گراتے ہو
کیا تم اس کا آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں
کہ تم جیسے اور بدل دیں اور تمہاری صورتیں وہ کردیں جس کی تمہیں حبر نہیں
اور بیشک تم جان چکے ہو پہلی اٹھان پھر کیوں نہیں سوچتے
تو بھلا بتاؤ تو جو بوتے ہو،
کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں
ہم چاہیں تو اسے روندن (پامال) کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ
ہم چاہیں تو اسے کھاری کردیں پھر کیوں نہیں شکر کرتے
تو بھلا بتاؤں تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو
کیا تم نے اس کا پیڑ پیدا کیا یا ہم ہیں پیدا کرنے والے،
ہم نے اسے جہنم کا یادگار بنایا اور جنگل میں مسافروں کا فائدہ
تو اے محبوب تم پاکی بولو اپنے عظمت والے رب کے نام کی،
تو مجھے قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں
اتارا ہوا ہے سارے جہان کے رب کا،
اور اپنا حصہ یہ رکھتے ہو کہ جھٹلاتے ہو
پھر کیوں نہ ہو جب جان گلے تک پہنچے
اور ہم اس کے زیادہ پاس ہیں تم سے مگر تمہیں نگاہ نیں
تو کیوں نہ ہوا اگر تمہیں بدلہ ملنا نہیں
پھر وہ مرنے والا اگر مقربوں سے ہے
تو راحت ہے اور پھول اور چین کے باغ
تو اے محبوب تم پر سلام دہنی طرف والوں سے
تو اس کی مہمانی کھولتا پانی،
اور بھڑکتی آگ میں دھنسانا
یہ بیشک اعلیٰ درجہ کی یقینی بات ہے،
تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بولو
مشاركة الموضوع