سورة Abasa ( He frowned )

سورة Abasa ( He frowned ) - Urdu Junagarhi عدد الآيات 42

وه ترش رو ہوا اور منھ موڑ لیا
(صرف اس لئے) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا
یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائده پہنچاتی
جو بے پرواہی کرتا ہے
اس کی طرف تو تو پوری توجہ کرتا ہے
حاﻻنکہ اس کے نہ سنورنے سے تجھ پر کوئی الزام نہیں
اور جو شخص تیرے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے
اور وه ڈر (بھی) رہا ہے
تو اس سے بےرخی برتتا ہے
یہ ٹھیک نہیں قرآن تو نصیحت (کی چیز) ہے
جو چاہے اس سے نصیحت لے
(یہ تو) پر عظمت صحیفوں میں (ہے)
جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے
ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے
جو بزرگ اور پاکباز ہے
اللہ کی مار انسان پر کیسا ناشکرا ہے
اسے اللہ نے کس چیز سے پیدا کیا
(اسے) ایک نطفہ سے، پھر اندازه پر رکھا اس کو
پھر اس کے لئے راستہ آسان کیا
پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا
پھر جب چاہے گا اسے زنده کر دے گا
ہرگز نہیں۔ اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی
انسان کو چاہئے کہ اپنے کھانے کو دیکھے
اور انگور اور ترکاری
اور میوه اور (گھاس) چاره (بھی اگایا)
تمہارے استعمال وفائدے کے لئے اور تمہارے چوپایوں کے لئے
پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے
اور اپنی بیوی اور اپنی اوﻻد سے بھاگے گا
ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامنگیر) ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی
اس دن بہت سے چہرے روشن ہوں گے
(جو) ہنستے ہوئے اور ہشاش بشاش ہوں گے
اور بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے
جن پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی
مشاركة الموضوع