سورة Al-Ma'arij (The Ways of Ascent )

سورة Al-Ma'arij (The Ways of Ascent ) - Urdu Junagarhi عدد الآيات 44

ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا جو واضح ہونے واﻻ ہے
کافروں پر، جسے کوئی ہٹانے واﻻ نہیں
اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں واﻻ ہے
جس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے
بیشک یہ اس (عذاب) کو دور سمجھ رہے ہیں
اور ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں
جس دن آسمان مثل تیل کی تلچھٹ کے ہو جائے گا
اور پہاڑ مثل رنگین اون کے ہو جائیں گے
اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا
(حاﻻنکہ) ایک دوسرے کو دکھا دیئے جائیں گے، گناهگار اس دن کے عذاب کے بدلے فدیے میں اپنے بیٹوں کو
اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو
اور اپنے کنبے کو جو اسے پناه دیتا تھا
اور روئے زمین کے سب لوگوں کو دینا چاہے گا تاکہ یہ اسے نجات دﻻ دے
(مگر) ہرگز یہ نہ ہوگا، یقیناً وه شعلہ والی (آگ) ہے
جو منھ اور سر کی کھال کھینچ ﻻنے والی ہے
وه ہر اس شخص کو پکارے گی جو پیچھے ہٹتا اور منھ موڑتا ہے
اور جمع کرکے سنبھال رکھتا ہے
بیشک انسان بڑے کچے دل واﻻ بنایا گیا ہے
جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو ہڑبڑا اٹھتا ہے
اور جب راحت ملتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے
جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں
مانگنے والوں کا بھی اور سوال سے بچنے والوں کا بھی
اور جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں
بیشک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں
اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی (حرام سے) حفاﻇت کرتے ہیں
ہاں ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جن کے وه مالک ہیں انہیں کوئی ملامت نہیں
اب جو کوئی اس کے علاوه (راه) ڈھونڈے گا توایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہوں گے
اور جو اپنی امانتوں کا اور اپنے قول و قرار کا پاس رکھتے ہیں
اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے اور قائم رہتے ہیں
یہی لوگ جنتوں میں عزت والے ہوں گے
پس کافروں کو کیاہو گیا ہے کہ وه تیری طرف دوڑتے آتے ہیں
کیا ان میں سے ہر ایک کی توقع یہ ہے کہ وه نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے گا؟
(ایسا) ہرگز نہ ہوگا۔ ہم نے انہیں اس (چیز) سے پیدا کیا ہے جسے وه جانتے ہیں
پس مجھے قسم ہے مشرقوں اور مغربوں کے رب کی (کہ) ہم یقیناً قادر ہیں
اس پر کہ ان کے عوض ان سے اچھے لوگ لے آئیں اور ہم عاجز نہیں ہیں
پس تو انہیں جھگڑتا کھیلتا چھوڑ دے یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعده کیا جاتا ہے
جس دن یہ قبروں سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، گویا کہ وه کسی جگہ کی طرف تیز تیز جا رہے ہیں
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چھا رہی ہوگی، یہ ہے وه دن جس کا ان سے وعده کیا جاتا تھا
مشاركة الموضوع