سورة Al-Mursalat ( Those sent forth )
سورة Al-Mursalat ( Those sent forth ) - Urdu Jawadi عدد الآيات 50
ان کی قسم جنہیں تسلسل کے ساتھ بھیجا گیا ہے
پھر تیز رفتاری سے چلنے والی ہیں
اور قسم ہے ان کی جو اشیائ کو منتشر کرنے والی ہیں
پھر انہیں آپس میں جدا کرنے والی ہیں
پھر ذ کر کو نازل کرنے والی ہیں
تاکہ عذر تمام ہو یا خوف پیدا کرایا جائے
جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بہرحال واقع ہونے والی ہے
پھر جب ستاروں کی چمک ختم ہوجائے
اور آسمانوں میں شگاف پیدا ہوجائے
اور جب سارے پیغمبر علیھ السّلام ایک وقت میں جمع کرلئے جائیں
بھلا کس دن کے لئے ان باتوں میں تاخیر کی گئی ہے
اور آپ کیاجانیں کہ فیصلہ کا دن کیا ہے
اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جہنمّ ہے
کیا ہم نے ان کے پہلے والوں کو ہلاک نہیں کردیا ہے
پھر دوسرے لوگوں کو بھی ان ہی کے پیچھے لگادیں گے
ہم مجرموں کے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کرتے ہیں
اور آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے بربادی ہی بربادی ہے
کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا ہے
پھر اسے ایک محفوظ مقام پر قرار دیا ہے
پھر ہم نے اس کی مقدار معین کی ہے تو ہم بہترین مقدار مقرر کرنے والے ہیں
آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے بربادی ہے
کیا ہم نے زمین کو ایک جمع کرنے والا ظرف نہیں بنایا ہے
جس میں زندہ مفِدہ سب کو جمع کریں گے
اور اس میں اونچے اونچے پہاڑ قرار دئے ہیں اور تمہیں شیریں پانی سے سیراب کیا ہے
آج جھٹلانے والوں کے لئے بربادی اور تباہی ہے
جاؤ اس طرف جس کی تکذیب کیا کرتے تھے
جاؤ اس دھوئیں کے سایہ کی طرف جس کے تین گوشے ہیں
نہ ٹھنڈک ہے اور نہ جہنمّ کی لپٹ سے بچانے والا سہارا
وہ ایسے انگارے پھینک رہا ہے جیسے کوئی محل
آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے بربادی اور جہنمّ ہے
آج کے دن یہ لوگ بات بھی نہ کرسکیں گے
اور نہ انہیں اس بات کی اجازت ہوگی کہ عذر پیش کرسکیں
آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے جہنم ّہے
یہ فیصلہ کا دن ہے جس میں ہم نے تم کو اور تمام پہلے والوں کو اکٹھا کیا ہے
اب اگر تمہارے پاس کوئی چال ہو تو ہم سے استعمال کرو
آج تکذیب کرنے والوں کے لئے جہنم ّہے
بیشک متقین گھنی چھاؤں اور چشموں کے درمیان ہوں گے
اور ان کی خواہش کے مطابق میوے ہوں گے
اب اطمینان سے کھاؤ پیو ان اعمال کی بنا پر جو تم نے انجام دیئے ہیں
ہم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں
آج جھٹلانے والوں کے لئے جہنم ہے
تم لوگ تھوڑے دنوں کھاؤ اور آرام کرلو کہ تم مجرم ہو
آج کے دن تکذیب کرنے والوں کے لئے ویل ہے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو نہیں کرتے ہیں
تو آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے جہنم ہے
آخر یہ لوگ اس کے بعد کس بات پر ایمان لے آئیں گے