سورة Al-Muddaththir ( The One Enveloped )

سورة Al-Muddaththir ( The One Enveloped ) - Urdu Jawadi عدد الآيات 56

اے میرے کپڑا اوڑھنے والے
اٹھو اور لوگوں کو ڈراؤ
اور اپنے رب کی بزرگی کا اعلان کرو
اور اپنے لباس کو پاکیزہ رکھو
اور برائیوں سے پرہیز کرو
اور اس طرح احسان نہ کرو کہ زیادہ کے طلب گار بن جاؤ
اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو
پھر جب صور پھونکا جائے گا
تو وہ دن انتہائی مشکل دن ہوگا
کافروں کے واسطے تو ہر گز آسان نہ ہوگا
اب مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دو جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا ہے
اور اس کے لئے کثیر مال قرار دیا ہے
اور نگاہ کے سامنے رہنے والے بیٹے قرار دیئے ہیں
اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دے دی ہے
اور پھر بھی چاہتا ہے کہ اور اضافہ کردوں
ہرگز نہیں یہ ہماری نشانیوں کا سخت دشمن تھا
تو ہم عنقریب اسے سخت عذاب میں گرفتار کریں گے
اس نے فکر کی اور اندازہ لگایا
تو اسی میں مارا گیا کہ کیسا اندازہ لگایا
پھر اسی میں اور تباہ ہوگیا کہ کیسا اندازہ لگایا
پھر تیوری چڑھا کر منہ بسور لیا
پھر منہ پھیر کر چلا گیا اور اکڑ گیا
اور آخر میں کہنے لگا کہ یہ تو ایک جادو ہے جو پرانے زمانے سے چلا آرہا ہے
ہم عنقریب اسے جہنمّ واصل کردیں گے
اور تم کیا جانو کہ جہنمّ کیا ہے
وہ کسی کو چھوڑنے والا اور باقی رکھنے والا نہیںہے
بدن کو جلا کر سیاہ کردینے والا ہے
اس پر انیس فرشتے معین ہیں
اور ہم نے جہنمّ کا نگہبان صرف فرشتوں کو قرار دیا ہے اور ان کی تعداد کو کفار کی آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے کہ اہل کتاب کو یقین حاصل ہوجائے اور ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہوجائے اور اہل کتاب یا صاحبانِ ایمان اس کے بارے میں کسی طرح کا شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں مرض ہے اور کفار یہ کہنے لگیں کہ آخر اس مثال کا مقصد کیا ہے اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور اس کے لشکروں کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے یہ تو صرف لوگوں کی نصیحت کا ایک ذریعہ ہے
ہوشیار ہمیں چاند کی قسم
اور جاتی ہوئی رات کی قسم
یہ جہنمّ بڑی چیزوں میں سے ایک چیز ہے
لوگوں کے ڈرانے کا ذریعہ
ہر نفس اپنے اعمال میں گرفتار ہے
وہ جنتوں میں رہ کر آپس میں سوال کررہے ہوں گے
مجرمین کے بارے میں
آخر تمہیں کس چیز نے جہنمّ میں پہنچادیا ہے
وہ کہیں گے کہ ہم نماز گزار نہیں تھے
اور مسکین کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے
لوگوں کے بفِے کاموں میں شامل ہوجایا کرتے تھے
اور روزِ قیامت کی تکذیب کیا کرتے تھے
تو انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش بھی کوئی فائدہ نہ پہنچائے گی
آخر انہیں کیا ہوگیا ہے کہ یہ نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں
جو شیر سے بھاگ رہے ہیں
حقیقتا ان میں ہر آدمی اس بات کا خواہش مند ہے کہ اسے کِھلی ہوئی کتابیں عطا کردی جائیں
ہرگز نہیں ہوسکتا اصل یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں ہے
ہاں ہاں بیشک یہ سراسر نصیحت ہے
اب جس کا جی چاہے اسے یاد رکھے
اور یہ اسے یاد نہ کریں گے مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے کہ وہی ڈرانے کا اہل اور مغفرت کا مالک ہے
مشاركة الموضوع