پیغمبر چین بجیں ہوئے اور منہ موڑ لیا
کہ ان کے پاس ایک اندھا آیا
اور آپ کو کیا معلوم کہ شاید وہ پاک ہوجائے
یا وہ نصیحت پکڑ لے تو اس کو نصیحت نفع دے
لیکن وہ جو پروا نہیں کرتا
سو آپ کے لیے توجہ کرتے ہیں
حالانکہ آپ پر اس کےنہ سدھرنے کا کوئی الزام نہیں
اور لیکن جو آپ کے پاس دوڑتا ہوا آیا
تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں
ایسا نہیں چاہیئے بے شک یہ تو ایک نصیحت ہے
وہ عزت والے صحیفوں میں ہے
جو بلند مرتبہ اور پاک ہیں
ان لکھنے والوں کے ہاتھوں میں
انسان پر خدا کی مار وہ کیسا ناشکرا ہے
اس نے کس چیز سے اس کو بنایا
ایک بوند سے اس کوبنایا پھر اس کا اندزہ ٹھیرایا
پھراس پر راستہ آسان کر دیا
پھر اس کو موت دی پھر اس کو قبر میں رکھوایا
پھر جب چاہے گا اٹھا کر کھڑا کرے گا
ایسا نہیں چاہیئے اس نے تعمیل نہیں کی جو اس کو حکم دیا تھا
پس انسان کو اپنے کھانے کی طرف غور کرنا چاہیئے
کہ ہم نے اوپر سے مینہ برسایا
پھر ہم نے زمین کو چیر کر پھاڑا
پھر ہم نے اس میں اناج ا گایا
تمہارے لیے اور تمہارے چار پایوں کے لیے سامان حیات
پھر جس وقت کانوں کا بہرا کرنے والا شور برپا ہوگا
جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا
اور اپنی بیوی اوراپنے بیٹوں سے
ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اس کو اوروں کی طرف سے بے پروا کر دے گی
اورکچھ چہرے اس دن چمک رہے ہوں گے
اور کچھ چہرے اس دن ایسے ہوں گے کہ ان پر گرد پڑی ہو گی
ان پر سیاہی چھا رہی ہو گی