Surah طور

Surah طور - اردو Aya count 49

قسم ہے طور کی
اور اس کتاب کی جو لکھی گئی ہے
اور آباد گھر کی قسم ہے
اور جوش مارتے ہوئے سمندر کی
بے شک آپ کے رب کا عذاب واقع ہوکر رہے گا
اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہے
جس دن آسمان تھرتھرا کر لرزنے لگے گا
اور پہاڑ تیزی سے چلنے لگیں گے
پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے
جو جھوٹی باتوں میں لگے ہوئے کھیل رہے ہیں
جس دن وہ دوزخ کی آگ کی طرف بری طرح سے دھکیلے جائیں گے
یہی وہ آگ ہے جسے تم دنیا میں جھٹلاتے تھے
اس میں داخل ہو جاؤ پس تم صبر کرو یا نہ کرو تم پر برابر ہے تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسا تم کرتے تھے
بے شک پرہیز گار باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے
محظوظ ہو رہے ہوں گے اس سے جو انہیں ان کے رب نے عطا کی ہے اور ان کو ان کے رب نے عذاب دوزخ سے بچا دیا ہے
مزے سے کھاؤ اور پیو بدلے ان (اعمال) کے جو تم کیا کرتے تھے
تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے جو قطاروں میں بچھے ہوئے ہیں اور ہم ان کا نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے کر دیں گے
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو بھی (جنت) میں ملا دیں گے اور ان کے عمل میں سے کچھ بھی کم نہ کریں گے ہر شخص اپنے عمل کے ساتھ وابستہ ہے
اور ہم انہیں اور زیادہ میوے دیں گے اور گوشت جو وہ چاہیں گے
وہاں ایک دوسرے سے شراب کا پیالہ لیں گے جس میں نہ بکواس ہو گی نہ گناہ کا کام
اور ان کے پاس لڑکے ان کی خدمت کے لیے پھر رہے ہوں گے گویا وہ غلافوں میں رکھے ہوئے موتی ہیں
اورایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں پوچھیں گے
کہیں گے ہم تو اس سے پہلے اپنے گھروں میں ڈرا کرتے تھے
پس الله نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں لُو کے عذاب سے بچا لیا
بے شک ہم اس سے پہلے اسے پکارا کرتے تھے بے شک وہ بڑا ہی احسان کرنے والا نہایت رحم والا ہے
پس نصیحت کرتے رہئے آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیں نہ دیوانہ ہیں
کیا وہ کہتے ہیں کہ وہ شاعر ہے ہم اس پر گردشِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں
کہہ دو تم انتظار کرتے رہو بے شک میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں
کیا ان کی عقلیں انہیں اس بات کا حکم دیتی ہیں یا وہ خود ہی سرکش ہیں
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود بنا لیا ہے بلکہ وہ ایمان ہی نہیں لاتے
کیا وہ بغیر کسی خالق کے پیدا ہو گئے ہیں یا وہ خود خالق ہیں
یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کوبنایا ہے نہیں بلکہ وہ یقین ہی نہیں کرتے
کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا وہ داروغہ ہیں
کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ وہ اس پر چڑھ کر سن آتے ہیں تو لے آئے ان میں سے سننے والا کوئی دلیل واضح
کیا اس کے لیے توبیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے
کیا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان سے دبے جا رہے ہیں
یا ان کے پاس علم غیب ہے کہ وہ اسے لکھتے رہتے ہیں
کیا وہ کوئی داؤ کرنا چاہتے ہیں پس جو منکر ہیں وہی داؤ میں آئے ہوئے ہیں
کیا سوائے الله کے ان کا کوئی اور معبود ہے الله اس سےپاک ہے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں
اگر وہ ایک ٹکڑا آسمان سے گرتا ہوا دیکھ لیں تو کہہ دیں کہ تہ بہ تہ جما ہوا بادل ہے
پس آپ انہیں چھوڑ دیجیئے یہاں تک کہ وہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس میں وہ بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے
جس دن ان کا داؤ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ انہیں مدد دی جائے گی
اوربے شک ان ظالموں کو علاوہ اس کے ایک عذاب (دنیا میں) ہوگا لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے
اور اپنے رب کا حکم آنے تک صبر کر کیوں کہ بےشک آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیئے جب آپ اٹھا کریں
اور (کچھ حصہ رات میں بھی) اس کی تسبیح کیا کیجیئے اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی
Share