Surah ص

Surah ص - اردو Aya count 88

قرآن کی قسم ہے جو سراسر نصیحت ہے
بلکہ جو لوگ منکر ہیں وہ محض تکبر اور مخالفت میں پڑے ہیں
ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کر دی ہیں سو انہوں نے بڑی ہائے پکار کی اور وہ وقت خلاصی کا نہ تھا
اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ڈرانے والا آیا اور منکروں نے کہا کہ یہ تو ایک بڑا جھوٹا جادوگر ہے
کیا اس نے کئی معبودوں کو صرف ایک معبود بنایا ہے بے شک یہ بڑی عجیب بات ہے
اور ان میں سے سردار یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو بے شک اس میں کچھ غرض ہے
ہم نے یہ بات اپنے پچھلے دین میں نہیں سنی یہ تو ایک بنائی ہوئی بات ہے
کیا ہم میں سے اسی پر نصیحت اتاری گئی بلکہ انہیں تو میری نصیحت میں بھی شک ہے بلکہ انہوں نے میرا ابھی عذاب بھی نہیں چکھا
کیا ان کے پاس تیرے خدائے غالب فیاض کی رحمت کے خزانے ہیں
یا انہیں آسمانوں اور زمین کی حکومت اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حاصل ہے تو سیڑھیاں لگا کر چڑھ جائیں
اور ثمود اور لوط کی قوم اور بن والے بھی جھٹلا چکے ہیں یہی وہ لشکر ہیں
ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تھا پس میرا عذاب آ موجود ہوا
اور کہتے ہیں اے رب ہمارے! ہمارا حصہ ہمیں حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے
ان کی اِن باتوں پر صبر کر اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کر جو بڑا طاقتور تھا بے شک وہ رجوع کرنے والا تھا
بے شک ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر دیا تھا کہ وہ شام اور صبح کو تسبیح کرتے تھے
اور پرندوں کو بھی جو جمع ہوجاتے تھے ہر ایک اس کے تابع تھا
اورہم نے اس کی سلطنت کو مضبوھ کر دیا تھا اور ہم نے اسے نبوت دی تھی اور مقدمات کے فیصلے کرنے کا سلیقہ (دیا تھا)
اور کیا آپ کو دو جھگڑنے والوں کی خبر بھی پہنچی جب وہ عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر آئے
جب وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرایا کہا ڈر نہیں دو جھگڑنے والے ہیں ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے پس آپ ہمارے درمیا ن انصاف کا فیصلہ کیجیئے اور بات کو دور نہ ڈالیئے اور ہمیں سیدھی راہ پر چلائیے
بے شک یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے پس اس نے کہا مجھے وہ بھی دے دے اور اس نے مجھے گفتگو میں دبا لیا ہے
کہا البتہ اس نے تجھ پر ظلم کیا جو تیری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملانے کا سوال کیا گور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی کیا کرتے ہیں مگر جو ایماندار ہیں اور انہوں نے نیک کام بھی کیے اور وہ بہت ہی کم ہیں اور داؤد سمجھ گیا کہ ہم نے اسے آزمایا ہے پھر اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدہ میں گر پڑا اور توبہ کی
پھر ہم نے اس کی یہ غلطی معاف کر دی اور اس کے لیے ہمارے ہاں مرتبہ اور اچھا ٹھکانہ ہے
اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں بادشاہ بنایا ہے پس تم لوگو ں میں انصاف سے فیصلہ کیا کرو اور نفس کی خواہش کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں الله کی راہ سے ہٹا دے گی بے شک جو الله کی راہ سے گمراہ ہوتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس لیے کہ وہ حساب کے دن کوبھول گئے
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے بیکار تو پیدا نہیں کیا یہ تو ان کا خیال ہے جو کافر ہیں پھرکافروں کے لیے ہلاکت ہے جو آگ ہے
کیا ہم کردیں گے ان کو جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان کی طرح جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم پرہیز گاروں کو بدکاروں کی طرح کر دیں گے
ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی بڑی برکت والی تاکہ وہ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ عقلمند نصحیت حاصل کریں
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا کیسا اچھا بندہ تھا بےشک وہ رجوع کرنے والا تھا
جب اس کے سامنے شام کے وقت تیز رو گھوڑے حاضر کیے گئے
تو کہا میں نے مال کی محبت کو یاد الہیٰ سے عزیز سمجھا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا
ان کو میرے پاس لوٹا لاؤ پس پنڈلیوں اور گردنوں پر (تلوار) پھیرنے لگا
اور ہم نے سلیمان کو آزمایا تھا اور اس کی کرسی پر ایک دھڑ ڈال دیا تھا پھر وہ رجوع ہوا
کہا اے میرے رب! مجھے معاف کر اور مجھے ایسی حکومت عنایت فرما کہ کسی کو میرے بعد شایاں نہ ہو بے شک تو بہت بڑا عنایت کرنے والا ہے
پھر ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا کہ وہ اس کے حکم سے بڑی نرمی سے چلتی تھی جہاں اسے پہنچنا ہوتا تھا
اور شیطان کو جو سب معمار اور غوطہ زن تھے
اور دوسروں کو جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے
یہ ہماری بخشش ہے پس احسان کر یا اپنے پاس رکھ کوئی حساب نہیں
اور البتہ (سلیمان) کے لیے ہمارے پاس مرتبہ اورعمدہ مقام ہے
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور عذاب پہنچایا ہے
اپنا پاؤں (زمین پر مار) یہ ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو ہے
اور ہم نے ان کو ان کے اہل و عیال اور کتنے ہی اور بھی اپنی مہربانی سے عنایت فرمائے اور عقلمندوں کے لیے نصیحت ہے
اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو کا مٹھا لے کر مارے اور قسم نہ توڑ بے شک ہم نے ایوب کو صابر پایا وہ بڑے اچھے بندے الله کی طرف رجوع کرنے والے تھے
اور ہمارے بندوں ابراھیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کر جو ہاتھو ں اور آنکھوں والے تھے
بے شک ہم نے انہیں ایک خاص فضیلت دی یعنی ذکر آخرت کے لیے چن لیا تھا
اور بے شک وہ ہمارے نزدیک برگزیدہ بندوں میں سے تھے
اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کر اور یہ سب نیک لوگو ں میں سے تھے
یہ نصیحت ہے اور بے شک پرہیز گاروں کے لئے اچھا ٹھکانا ہے
ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں ان کے لئے ان کے دروازے کھولے جائیں گے
وہاں تکیہ لگا کر بیٹھیں گے وہاں بہت سے میوے اور شراب طلب کریں گے
اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم عمر عورتیں ہوں گی
یہی ہے جس کا تم سے حساب کے دن کے لیے وعدہ کیا جاتا ہے
بے شک یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا
یہی بات ہے اور بے شک سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہے
یعنی دوزخ جس میں وہ گریں گے پس وہ کیسی بری جگہ ہے
یہ ہے پھر وہ اس کو چکھیں جو کھولتا ہوا پانی اور پیپ ہے
اور اس کی شکل اور بھی کئی طرح کی چیزیں ہوں گی
یہ ایک جماعت ہے جو تمہارے ساتھ دوزخ میں داخل ہونے والی ہے (متبوع کہیں گے) ان پر خدا کی مار یہ بھی دوزخ ہی میں آ رہے ہیں
(تابع ہونے والے) کہیں گے بلکہ تم پر خدا کی مار تم ہی تو اس بلا کو ہمارے سامنے لائے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے
تابع کہیں گے اے ہمارے رب! جو اس بلا کو آگے لایا اسے آگ میں دگنا عذاب دے
اور کہیں گے کہ جن لوگوں کو ہم دنیا میں برا سمجھتے تھے ہمیں دکھائی کیوں نہیں دیتے
کیا ہم ان سے (ناحق) تمسخر کرتے تھے یا ان سے ہماری نگاہیں پھر گئی ہیں
بے شک یہ دوزخیوں کا آپس میں جھگڑنا بالکل سچی بات ہے
کہہ دو میں تو ایک ڈرانے والا ہوں اور الله کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ایک ہے بڑا غالب
آسمانوں اور زمین کا پرودگار اورجو کچھ ان کے درمیان ہے غالب بڑا معاف کرنے والا ہے
کہہ دو یہ ایک بڑی خبر ہے
تم اس سے منہ پھیرنے والے ہو
مجھے فرشتو ں کے متعلق کوئی علم نہیں تھا جب کہ وہ جھگڑ رہے تھے
مجھے تو یہی وحی کیا گیا ہے کہ میں تمہیں صاف صاف ڈراؤں
جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک انسان مٹی سے بنانے والا ہوں
پھرجب میں اسے پورے طور پر بنا لوں اور اس میں اپنی رو ح پھونک دوں تو اس کے لیے سجدہ میں گر پڑنا
مگر ابلیس نے نہ کیا تکبر کیا اور کافروں میں سے ہو گیا
فرمایا اے ابلیس! تمہیں اس کےے سجدہ کرنے سے کس نے منع کیا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا کیا تو نے تکبر کیا یا تو بڑوں میں سے تھا
اس نے عرض کی میں اس سے بہتر ہوں مجھے تو نے آگ سے بنایااور اسے مٹی سے بنایا
فرمایا پھر تو یہاں سے نکل جاکیوں نکہ تو راندہ گیا ہے
عرض کی اے میرے رب! پھر مجھے مردوں کے زندہ ہونے تک مہلت دے
عرض کی تیری عز ت کی قسم! میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا
مگر ان میں جو تیرے خالص بندے ہوں گے
فرمایا حق بات یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں
میں تجھ سے اوران میں سے جو تیرے تابع ہوں گے سب سے جہنم بھر دوں گا
کہہ دو میں اس پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں ہوں
یہ قرآن تو تمام جہان کے لیے نصیحت ہے
اور تم کچھ مدت کے بعد اس کا حال ضرور جان لوگے
Share