وہ پاک ہے جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سننے والا دیکھنے ولا ہے
اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے ہی لیےکی اور اگر برائی کی تو وہ بھی اپنے ہی لیےکی پھر جب دوسرا وعدہ آیا تاکہ تمہارے چہروں پر رسوائی پھیر دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح پہلی بار گھس گئے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں اس کا ستیاناس کر دیں
اور ہم نے رات اور دن کے دو نمونے بنا دیے پھر رات کے نمونے کو دھندلا کر دیا اور دن کا نمونہ نظر آنے کے لیے روشن کر دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کر لو اور ہم نے ہر چیز کی تفصیل کر دی
جو سیدھے راستے پر چلا تو اپنے ہی لیے چلا اور جو بھٹک گیا تو بھٹکنے کا نقصان بھی وہی اٹھائے گا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہم سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج لیتے
اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے دولتمندوں کو کوئی حکم دیتے ہیں پھر وہ وہاں نافرمانی کرتے ہیں تب ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ہم اسے برباد کر دیتے ہیں
اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو
اور جس جان کو قتل کرنا الله نے حرام کر دیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرنا اور جو کوئی ظلم سے مارا جائے تو ہم نے اس کے ولی کے واسطے اختیار دے دیا ہے لہذاا قصاص میں زيادتی نہ کرے بے شک اس کی مدد کی گئی ہے
ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ایسی کوئی چیز نہیں جو ا سکی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے بے شک وہ بردبار بخشنے والا ہے
اور ہم نے ان کے دلو ں پر پردے کر دیے ہیں تاکہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے اور جب تو قرآن میں صرف اپنے رب ہی کا ذکر کرتا ہے تو پیٹھ پھیر کر کفرت سے بھاگتے ہیں
ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ سنتے ہیں جب یہ لوگ تیری طرف کان لگاتے ہیں اور جس وقت آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم محض ایسے شخص کا ساتھ دیتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے
یا کوئی اور چیز جسے تم اپنے دلوں میں مشکل سمجھتے ہو پھر وہ کہیں گے ہمیں دوبارہ کون لوٹائے گا کہہ دو وہی جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے پھر تمہارے سامنے سروں کو ہلاکر کہیں گے کہ وہ کب ہو گا کہہ دو شاید وہ وقت بھی قریب آ گیا ہو
وہ لوگ جنہیں یہ پکارتے ہیں جو ان میں سے زیادہ مقرب ہیں وہ بھی اپنے رب کی طرف نیکیوں کا ذریعہ تلاش کرتے ہیں اور اس کی مہربانی کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بےشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے
اور ہم نے اس لیےمعجزات بھیجنے موقوف کر دیےکہ پہلوں نے انہیں جھٹلایا تھا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی کا کھلا ہوا معجزہ دیا تھا پھر بھی انہوں نے اس پر ظلم کیا اور یہ معجزات تو ہم محض ڈرانے کے لیے بھیجتے ہیں
اور جب ہم نے تم سے کہہ دیا کہ تیرے رب نے سب کو قابو میں کر رکھا ہے اور وہ خواب جو ہم نے تمہیں دکھایا اور وہ خبیث درخت جس کا ذکر قرآن میں ہے ان سب کو ان لوگو ں کے لیے فتنہ بنا دیا اور ہم تو انہیں ڈراتے ہیں سو اس سے ان کی شرارت اوربھی بڑھتی جاتی ہے
ان میں سے جسے تو اپنی آواز سنا کر بہکا سکتا ہے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے بھی چڑھا دے اوران کے مال اور اولاد میں بھی شریک ہو جا اور ان سے وعدے کر اور شیطان کے وعدے بھی محض فریب ہی تو ہیں
اور جب تم پر دریا میں کوئی مصیبت آتی ہے تو بھول جاتے ہو جنہیں الله کے سوا پکارتے تھےپھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے
پھر کیا تم اس بات سے نڈر ہو گئے کہ وہ تمہیں خشکی کی طرف لاکر زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے پھر تم کسی کو اپنا مددگار نہ پاؤ
یا تم اس بات سے بالکل نڈر ہو گئے ہو کہ وہ دوبارہ تمہیں پھر دریا میں لوٹا لائے پھر تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے پھر تمہاری ناشکری سے تمہیں غرق کر دے پھر اپنی طرف سے ہم پر کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہ پاؤ
اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے اور خشکی اور دریا میں اسے سوار کیا اور ہم نے انہیں ستھری چیزو ں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں فضیلت عطا کی
جس دن ہم ہر فرقہ کو ان کے سرداروں کے ساتھ بلائیں گے سوجسے اس کا اعمال نامہ ا سکے داہنے ہاتھ میں دیا گیا سو وہ لوگ اپنا اعمال نامہ پڑھیں گے اور وہ تاگے کے برابر ظلم نہیں کئے جائیں گے
اور بے شک وہ قریب تھے کہ تجھے اس چیز سے بہکا دیں جو ہم نے تجھ پر بذریعہ وحی بھیجی ہے تاکہ تو اس کے سوا ہم پر بہتان باندھنے لگے اور پھر تجھے اپنا دوست بنا لیں
یا تیرے پاس کوئی سونے کا گھر ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے او رہم تو تیرے چڑھنے کا بھی یقین نہیں کریں گے یہاں تک کہ توہمارے پاس ایسی کتاب لائے جسے ہم بھی پڑھ سکیں کہہ دو میرا رب پاک ہے میں تو فقط ایک بھیجا ہوا انسان ہوں
اور جسے الله راہ دکھا دے وہی راہ پانے والا ہے اورجسے گمراہ کر دے پھر تو ان کے لیے الله کے سوا کوئی دوست نہیں پائے گا اور ہم نے انہیں قیامت کے دن مونہوں کے بل اندھے گونگے بہرے کر کے اٹھائیں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب بجھنے لگے گی تو ان پر اوربھڑکا دیں گے
کیا انہوں نے نہیں دیکھا جس الله نے آسمانوں اور زمین کوبنایا ہے وہ ان جیسے اوپر بھی بنا سکتا ہے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں کوئی شک نہیں اس پر بھی ظالم انکار کیئے بغیر نہ رہے
اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دی تھیں پھر بھی بنی اسرائیل سےبھی پوچھ لو جب موسیٰ ان کے پاس آئے تو فرعون نے اسے کہا اے موسیٰ میں تو تجھے جادو کیا ہوا خیال کرتا ہوں
کہا یہ تو تجھے معلوم ہے کہ یہ آسمانوں اور زمین کے مالک ہی نے لوگوں کو سوجھانے کے لیے نازل کی ہیں اور بے شک میں تجھے اے فرعون ہلاک کیا ہوا خیال کرتا ہوں
کہہ دو الله کہہ کر یا رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے پکاروسب اسی کے عمدہ نام ہیں اور اپنی نماز میں نہ چلا کر پڑھ اور نہ بالکل ہی آہستہ پڑھ اور اس کے درمیان راستہ اختیار کر
اور کہہ دو سب تعریفیں الله کے لیے ہیں جس کی نہ کوئی اولاد ہے اورنہ کوئی اس کا سلطنت میں شریک ہے اور نہ کوئی کمزوری کی وجہ سے اس کا مددگار ہے اور اس کی بڑائی بیان کرتےر ہو